نہ پائی جائے، اور نقل میں ناقل)
کا نہیں بلکہ جس کے حوالے سے نقل کیا جائے اس کا اعتبار ہوتا ہے، اور ایک مسئلہ اگر متعدد علماء کسی ایک ہی حوالے سے لکھیں تو اس سے مسئلہ کا غریب ہونا
ختم نہیں ہوتا، جیسا کہ یہ تمام باتیں میں نے آدابِ مفتی
کے موضوع پر لکھی جانے والی اپنی کتاب"فصل القضاء في رسم الإفتاء" میں ذکر کردی ہیں۔
اسی طرح سے" فتاویٰ ظہیریہ" میں ایک مسئلہ لکھا ہے کہ سجدہ تلاوت کے بعد قیام کرنا بھی اسی طرح مستحب ہے جیسے سجدہ سے پہلے مستحب ہے، اس مسئلہ کو" ظہیریہ" کے حوالے سے "تا تارخانیہ" "قنیہ" اور" مضمرات" نے بھی نقل کیا ہے اور ان کتب کے حوالے سے یہ مسئلہ "بحر"اور" دُرَر" میں بھی مذکور ہے نیز" بحر "میں یہ وضاحت بھی موجود ہے کہ یہ مسئلہ غریب
ہے، علامہ شامی -علیہ الرحمۃ- فرماتے