| کرنسی نوٹ کے شرعی احکام |
بندی بھی ایک قسم کی مدت معیّن کرنا ہی ہے یہ بھی جائز ہے ، ہاں۔۔۔۔۔۔! اگر دس کا نوٹ قرض دیا اور شرط کرلی کہ قرض لینے والا بارہ یا گیارہ روپے اب یا کچھ مدت بعد قسط بندی سے یا بلا قسط واپس دے تو یہ ضرور حرام اور سود ہے؛ کیونکہ یہ ایک قرض ہے جس سے نفع حاصل کیا گیا ۔ اور بے شک ہمارے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
((کل قرض جر منفعۃ فھو ربا))
ترجمہ:'' جو قرض کوئی نفع کھینچ کر لائے وہ سود ہے''۔
(کنز العمال ، کتاب الدین والسلم ،رقم الحدیث:۱۵۵۱۲،ج۶ ،ص ۹۹)
گویا اس صورت میں تجارت جائز اور قرض ناجائز ہے۔ اس کے بعد کتبِ حدیثیہ و فقہیہ کی روشنی میں امام اعظم ابو حنیفہ اور صاحبین رحمہم اللہ کے نظریات واضح فرمائے اور ہر پہلو سے مسئلہ کی حقیقت کو روشن کردکھایا۔ سود کی حدبندی کرکے جائز طریقوں پر نفع حاصل کرنے کی صور تیں بھی تحریر فرما دیں اور اس اعتراض "تو اس میں اور سود میں کیا فرق ہے کہ یہ حلال اور وہ حرام ہے؟" کا جواب بھی ارشاد فرمادیا۔ اب آیئے! سیدی اعلی حضرت ، امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃالرحمن کے اس مبارک رسالے
''کفل الفقیہ الفاھم في أحکام قرطاس الدراھم''
کا ترجمہ بنام''کرنسی نوٹ کے شرعی احکامات'' ملاخطہ فرمائیں ۔
شعبہ کتب أعلی حضرت المدینۃ العلمیۃ