Brailvi Books

کرنسی نوٹ کے شرعی احکام
37 - 199
وفقیہ اعظم کے فیوض وبرکات سے مستفید ہونے کا شرف ملا۔

     علامہ عبد الحئ صاحب لکھنوی نے بھی اس بارے میں ایک طویل فتویٰ جاری کیا تھا جوان کے فتاویٰ کی جلد دوم میں چھبیسواں فتویٰ ہے۔ موصوف ایک متبحر عالم تھے لیکن ان کی تحقیق
(Research)
اس بارے میں ائمہ کرام کی تصریحات کے خلاف واقع ہوئی، چنانچہ علمی غلطیوں سے چشم پوشی کرجانا ایک مجددکی شان سے بعید ہے؛ کیونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ شانہ مُجَدّدِ دین کو پیدا ہی اس لئے کرتا ہے کہ دین میں جب غلط باتیں شامل کی جارہی ہوں تو مجدِّداللہ رب العزت کی مدد و نصرت سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردکھائے۔

    اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے علامہ عبد الحئ کے فتویٰ پر دلائل کی روشنی میں محققانہ اندازسے ایک سو بیس اعتراضات
 (Objections)
پیش کیے ان بلند پایہ ابحاث کو دیکھ کر مصنف پر مجتہد ہونے کا گمان گزرتا ہے، لیکن آپ علیہ الرحمۃ نے اس انعام خداوندی کا اظہاریوں فرمایا :''وﷲ الحمد، بایں ہمہ حاشانہ فقیر مجتہد ہے نہ ائمہ مجتہدین کے ادنیٰ غلاموں کا پاسنگ، ان کی خاکِ نعل کے برابر بھی منہ نہیں رکھتا، نہ معاذ اﷲ شرع الٰہی میں اپنی عقل قاصر کے بھروسے پر کچھ بڑھا سکتا ہے۔ اس فتویٰ اور ان دونوں رسالوں میں جوکچھ ہے جہد المقل ہے یعنی ایک بے نوا محتاج کی اپنی طاقت بھر کوشش''۔ 

سوال نمبر ۲: جب نوٹ کی مالیت نصابِ زکوٰۃ
 (Minimum Amount of Property Liable for paying Zakat)
تک پہنچ جائے اور اس پر سال بھی گزر جائے تو نوٹ پر زکوٰۃ فرض ہوگی یا نہیں ؟

جواب: چونکہ بعض حضرات کے نزدیک نوٹ کی حیثیت رسید کی سی تھی ،لہذا ان کے
Flag Counter