Brailvi Books

کرنسی نوٹ کے شرعی احکام
36 - 199
کاروشن ثبوت دیوبندی علماء کا سرخیل مولوی رشید احمد گنگوہی ہے،جو دیوبندی حضرات کے نزدیک تمام علوم دینیہ میں منصبِ امامت پر فائز، نیز فقہ میں علامہ شامی رحمۃ اﷲ علیہ سے بھی زیادہ متبحر عالم اور صاحب ''بحر الرائق'' کے ہم پلہ و فقیہ النفس تھا۔ ( یہ سب دعوے'' فتاویٰ رشیدیہ'' کے دیباچے میں تحریر کیے گئے ہیں) گنگوہی موصوف سے نوٹ کے بارے میں پوچھے گئے سوالات میں سے دو کے جوابات ملاحظہ ہوں۔

۱:۔۔۔۔۔۔ نوٹ کی خرید و فروخت برابر قیمت پر بھی درست نہیں مگر اس میں حیلہ حوالہ ہوسکتا ہے اور بحیلہ عقدِ حوالہ کے جائز ہے مگر کم ز یادہ پر بیع کرنا ربوٰ یعنی سود اور ناجائز ہے۔
    ('' فتاویٰ رشیدیہ''، ص ۴۷۶)
۲:۔۔۔۔۔۔ روپیہ بھیجنے کی آسان ترکیب نوٹ کی رجسٹری یا بیمہ کرادینا ہے۔
    (''فتاویٰ رشیدیہ''،ص ۴۸۹)
     مذکورہ بالاکتاب میں گنگوہی موصوف نے اسی طرح کے مزید اورجوابات بھی دیے ہیں جن کو شریعتِ مطہرہ سے کچھ پاس نہیں۔ الامان الحفیظ

    ۱۳۲۹ھ؁ میں اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالی عنہ نے ''الذیل المنوط لرسالۃ النوط'' کے تاریخی نام سے ایک مستقل رسالہ جو'' کفل الفقیہ'' کا تتمہ ہے لکھا ،اس میں گنگوہی موصوف کے مذکورہ فتاوی کا جو کہ تصریحاتِ ائمہ کے خلاف ہیں۔

کتبِ حدیثیہ وفقہیہ مثلاً'' ترمذی'' ، '' نسائی ''،''احمد''، '' ہدایہ''،'' فتح القدیر''،''عنایہ''،

'' عالمگیری''،'' درمختار''،'' بحر الرائق''، '' نہر الفائق''،'' شامی''،'' فتاویٰ قاضی خان'' وغیرہ کی روشنی میں وہ اٹھارہ محققانہ ردّ فرمائے کہ اہل علم حضرات کی آنکھیں ٹھنڈی ہوگئیں اور وہ اللہ تبارک وتعالی کا شکر بجالائے کہ انہیں ایسے زبردست، مایہ ناز، محقق
Flag Counter