Brailvi Books

کرنسی نوٹ کے شرعی احکام
27 - 199
سے مزین و آراستہ کرکے احقاقِ حق فرمادیا۔

اور جب آپ علیہ رحمۃ الرحمن کے تحریر کردہ جوابات عالم اسلام کے مقتدر و معزز علماء کرام رحمہم اللہ کے سامنے آئے توسب حضرات نے آپ علیہ رحمۃ الرحمن کی اس زبردست تحقیق کو ناصرف قبول کیا بلکہ آ پ علیہ رحمۃ الرحمن کوزبردست فقیہ اور متبحر عالمِ دین گردانااور ساتھ ہی آپ علیہ رحمۃ الرحمن کی اس تصنیف کو عالم اسلام کے لئے احسان عظیم قراردیا۔ اور اسی تحقیق کو جسے سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمۃنے آج سے تقریباً سوسال پہلے ہی پیش فرما چکے تھے آج کی جدید اکنامکس
 (Modern Economics)
بھی تسلیم کررہی ہے۔ اسی طرح سیدی اعلی حضرت ،امام اہل سنت، رہبرِ شریعت، مجددِ ِدین وملت، الشاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن کے اس فتویٰ سے فی زمانہ نوٹ کی نوٹ کے ذریعے کی جانے والی بیع
 (Exchange of Money)
کا حکم بھی واضح ہوجاتاہے۔
نوٹ کی نوٹ سے بیع کا شرعی حکم
     فی زمانہ کرنسی نوٹ اپنی اصل کے اعتبار سے توکاغذکا ایک ٹکڑا ہی ہے،لیکن ہر ملک کی کرنسی مقصود کے مختلف ہونے کی و جہ سے ایک علیحدہ جنس ہے؛ کیونکہ کرنسی سے مقصود کاغذ کا ٹکڑانہیں بلکہ اس سے قوتِ خرید کا ایک مخصوص معیار مراد ہوتاہے۔اور شرعاًیہی بات یعنی مقصود یااصل کا مختلف ہونا ہی اجناس کے مختلف ہونے کا مدار ہے جیساکہ آٹا ، روٹی اور گندم ہر ایک علیحدہ علیحدہ جنس شمار کیے جاتے ہیں اگرچہ اصل کے اعتبار سے یہ سب ایک ہی چیز یعنی گندم ہیں۔ چنانچہ مختلف ممالک کی کرنسی مختلف ناموں کے ساتھ ساتھ قوتِ خرید کا ایک علیحدہ اور مخصوص معیار رکھتی ہیں
Flag Counter