Brailvi Books

کرنسی نوٹ کے شرعی احکام
26 - 199
جب تک کہ فقیر ان نوٹوں کے بدلے میں کوئی چیز خریدنہ لیتااور اگر فقیر کے استعمال سے پہلے یہ نوٹ گم ہوجاتے یا ضائع ہو جاتے تو بھی اس کی زکوٰۃ ادانہیں ہوتی۔

اور جن علماء کی رائے میں نوٹ ثمنِ اصطلاحی ہے اُن کے نزدیک نوٹ کے ذریعے سے ثمن خلقی یعنی سوناچاندی کی بیع بلاشبہ جائزہے۔ اس پر زکوۃ واجب ہوتی ہے اور نوٹ کی ادائیگی سے زکوٰۃ بھی ادا ہوجاتی ہے۔

    اسی طرح اور بہت سارے ایسے فقہی مسائل تھے جو صرف نوٹ کی فقہی حیثیت کے متعین نہ ہونے کی و جہ سے علماء کے درمیان مختلف رہے۔ 

چنانچہ نوٹ کی فقہی حیثیت کے متعین نہ ہونے کی و جہ سے عرب وعجم کے علماء حیران و پریشان تھے ، جب کبھی مفتیانِ عظام سے نوٹ کی شرعی حیثیت کے بارے میں دریافت کیاجاتاتوکوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملتاتھایہاں تک کہ مکہ مکرمہ زادھا اللہ شرفاًوتعظیماًکے مفتی احناف، جمال بن عبداللہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس کاشرعی حکم بیان کرنے سے اپنا عذر یہ کہہ کر پیش کردیا کہ
''العلم أمانۃ في أعناق العلماء''
یعنی "علم علماء کی گردنوں میں امانت ہے"۔ 

    بہرحال ۱۳۲۳؁ھ میں سیدی اعلی حضرت، امامِ اہلسنت، رہبرِ شریعت، مجددِ ِدین وملت، الشاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن دوسری مرتبہ حج بیت اللہ شریف کے لئے مکہ مکرمہ حاضر ہوئے تو وہاں کے علماء کرام رحمہم اللہ نے اس موقع کوغنیمت جان کر آپ علیہ رحمۃ الرحمن کی خدمت میں نوٹ سے متعلق بارہ سوالات پیش کردیے ۔

     چنانچہ سیدی اعلی حضرت امام اہلسنت علیہ رحمۃ الرحمن نے اپنی عادت کریمہ کے مطابق اس موضوع پر بھی قلم اٹھایا اور ان سوالات کے جوا بات کو دلائل و براہین
Flag Counter