نیز اسی" عالمگیری "میں" محیط سرخسی" سے بھی اسی طرح منقول ہے ،اور یہ کہ "ذخیرہ" میں ہے" اگرچاندی کے روپے کے بدلے میں پیسے یا کھانا خریدا تا کہ وہ عقدِ صَرف نہ ہو اور بائع و مشتری
میں سے ایک نے حقیقۃً قبضہ کرلیا پھر دونوں جدا ہوگئے تو یہ صورت جائز ہے، اور اگر کسی جانب سے بھی حقیقۃً قبضہ نہ ہوا بلکہ صرف حکماً قبضہ ہوا تو یہ ناجائز ہے، چاہے وہ عقدِ صَرف ہو یا اس کے علاوہ کوئی دوسرا عقد ہو،اس کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ زید کا بکر پر کچھ پیسہ یا غلہ قرض تھا، بکر نے انہی پیسوں یا غلے کوچاندی کے روپوں کے بدلے خریدلیا اورچاندی کے روپے دینے سے پہلے دونوں جدا ہوگئے، تویہ بیع باطل ہوگئی، یہ مسئلہ یاد رکھنا نہایت ضروری ہے اکثر لوگ اس مسئلہ سے غافل ہیں"۔
("الفتاوٰی الھندیۃ"، کتاب البیوع، الباب التاسع فیما یجوز...إلخ، الفصل الأول في بیع الدین بالدین، ج۳، ص۱۰۲)