Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
89 - 199
متاع
(Chattel)
کی طرح کا مال ہوجائیں گے" رد المحتار" باب ربا میں" بحر " سے، "بحر"میں "ذخیرہ" اور" ذخیرہ" میں مشائخ سے اس کے بیعِ صرف نہ ہونے کی تصریح منقول ہے، البتہ نوٹ کے ثمنِ اصطلاحی ہونے کی بنا پر دونوں جانب میں سے ایک کا قبضہ ضروری ہے ،ورنہ یہ بیع حرام ہوجائے گی؛ کیونکہ نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے دَین کو دَین سے بیچنا ممنوع قرار دیا ہے، امام محمد نے" مبسوط "میں اس بات کی تصریح فرمائی ہے اور "محیط اما م سرخسی" ، "حاوی"، "بزازیہ"، "بحر"، "نہر"، "فتاویٰ حانوتی"،" تنویر"، "درمختار" اور" ہندیہ" وغیرہا میں اسی پر اعتماد کیا گیا ہے، اور امام اسبیجابی کے کلام کا بھی یہی مفاد
(Gain)
ہے، جیسا کہ علامہ شامی- رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ- نے ان سے بحوالہ" بحر " نقل فرمایا،" ہندیہ" میں" مبسوط" سے منقول ہے کہ" کسی نے چاندی کے روپوں کے بدلے ریزگاری خریدی، خریدار نے چاندی کے روپے ادا کردیئے مگر بائع نے پیسے ادا نہ کئے تو یہ بیع جائز ہے"۔
("الفتاوی الھندیۃ" ، کتاب الصرف، الباب الثاني في أحکام العقد بالنظر...إلخ، الفصل الثالث في بیع الفلوس، ج۳، ص۲۲۴)
    اسی "عالمگیری" میں "حاوی "وغیرہ سے منقول ہے کہ" اگر کسی نے ایک چاندی کا روپیہ سو پیسے میں خریدا اور روپے پر بائع نے قبضہ کرلیا لیکن خریدار کا پیسوں پر قبضہ نہ ہوا یہاں تک کہ پیسوں کا چلن جاتا رہا تو قیاس
(Analogy)
 یہ ہے کہ بیع باطل
Flag Counter