Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
75 - 199
چندآدابِ افتاء
    یاد رہے کہ" قنیہ" کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ اس کی روایات ضعیف ہوتی ہیں، اور علماء نے وضاحت فرمائی ہے کہ"قنیہ" جب مشہور کتابوں کی مخالفت کرے تو اس کا قول قابلِ قبول
 (Acceptable)
نہ ہوگا، بلکہ یہاں تک کہا کہ" قنیہ" اگر قواعد کے خلاف مسئلہ بیان کرے تو قابلِ قبول نہیں جب تک اس کی تائید میں کوئی قابلِ اعتماد
 (Reliable)
نقل
 (Reference)
نہ پائی جائے، اور نقل میں ناقل)
(Reporter
کا نہیں بلکہ جس کے حوالے سے نقل کیا جائے اس کا اعتبار ہوتا ہے، اور ایک مسئلہ اگر متعدد علماء کسی ایک ہی حوالے سے لکھیں تو اس سے مسئلہ کا غریب ہونا
 (Strangeness)
ختم نہیں ہوتا، جیسا کہ یہ تمام باتیں میں نے آدابِ مفتی
(Rules of Muslim Jurist)
کے موضوع پر لکھی جانے والی اپنی کتاب"فصل القضاء في رسم الإفتاء" میں ذکر کردی ہیں۔

    اسی طرح سے" فتاویٰ ظہیریہ" میں ایک مسئلہ لکھا ہے کہ سجدہ تلاوت کے بعد قیام کرنا بھی اسی طرح مستحب ہے جیسے سجدہ سے پہلے مستحب ہے، اس مسئلہ کو" ظہیریہ" کے حوالے سے "تا تارخانیہ" "قنیہ" اور" مضمرات" نے بھی نقل کیا ہے اور ان کتب کے حوالے سے یہ مسئلہ "بحر"اور" دُرَر" میں بھی مذکور ہے نیز" بحر "میں یہ وضاحت بھی موجود ہے کہ یہ مسئلہ غریب
 ( Stranger)
ہے، علامہ شامی -علیہ الرحمۃ- فرماتے
Flag Counter