Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
74 - 199
    لہٰذا واضح ہوگیا کہ ایک پیسے سے کم قیمت کے مال کی بیع والا مسئلہ جو اُن عالم صاحب نے بطور دلیل پیش کیا ہے وہ ہمارے نوٹ والے مسئلہ سے کچھ تعلق نہیں رکھتا ، مگر یہ کمزور بندہ (امام اہلسنت علیہ الرحمۃ) پسند کرتا ہے کہ اس مسئلہ کومزید واضح کردے تاکہ کوئی دوسرا شخص اس مسئلہ سے کسی اور جگہ دھوکہ نہ کھا جائے؛کیونکہ اس میں ایسی تنگی ہے جس نے شریعت کی وسیع کی ہوئی چیزوں کو بھی تنگ کردیا ہے۔

لہٰذا میں اﷲ تعالیٰ کی توفیق سے کہتا ہوں:اس مسئلہ کا ماخذ
 (Source)
 (فقہ کی ایک کتاب) "قنیہ" ہے "رد المحتار" نے اسے "بحر"اور "بحر" نے اسے "قنیہ"کے حوالے سے نقل کیا ہے اور ان کے شاگرد علامہ غَزی نے انکی پیروی کی، اور یہاں تک مبالغہ کیا کہ اس مسئلہ کو اپنے متن"تنویر الابصار" کی فصل متفرقات البیوع میں کتاب الصرف سے کچھ پہلے داخل فرمالیا، حالانکہ" تنویر الابصار" کے ماخذ "درر"و"غرر" میں اس کا ذکر نہیں ہے اور اس کے شارح علامہ علائی نے اسے" قنیہ" ہی کی طرف منسوب کیا ہے ،بلکہ خود مصنف نے اس کی شرح" منح الغفار" میں اس بات کا اعتراف کیا ہے اور متن کی اس عبارت کے بعد فرمایا کہ یہ بھی" قنیہ" میں منقول ہے۔
                ("منح الغفار" شرح "الدّر المختار")
    یعنی جیسا کہ اس سے پہلے بھی "قنیہ" میں ایک مسئلہ مذکور ہے کہ کبوتر کی بِیٹ اگر کثیر ہو تو اسے بیچنا اور ہبہ کرنا جائز ہے ۔
Flag Counter