Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
29 - 199
صفت میں تبدیلی ہوجائے تو ان کی جنسیں مختلف ہوجائیں گی۔جیساکہ صدرالشریعہ بدر الطریقہ مولانا امجد علی اعظمی رحمہ اللہ تعالی کی عبارت سے ظاہر ہے کہ روٹی کی بیع گندم کے ساتھ ادھار اور کمی بیشی کے ساتھ جائز ہے، حالانکہ ان کی اصل ایک ہے صرف بناوٹ میں تبدیلی ہونے کی وجہ سے ان کے نام اورکام میں تبدیلی پیدا ہوگئی۔

چنانچہ ان دونوں کو علیحدہ علیحدہ جنس شمار کیا گیا،اسی مسئلہ کو مزید تفصیل سے بیان کرتے ہوئے امام سراج الدین عمر ابن نجیم حنفی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
    ''یصح أیضاً بیع الخبز بالبر وبالدقیق متفاضلاً في أصح الروایتین عن الإمام، قیل: ھو ظاھر المذھب لعلمائنا الثلاثۃ، وعلیہ الفتوی عدداً و وزناً، کیف ما اصطلحوا علیہ؛ لأنہ صار بالصنعۃ جنساً آخر''۔
 (''النھر الفائق''،کتاب البیوع، باب الربا،ج۳ ،ص ۴۷۸)
    ترجمہ:''امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے منقول دوروایتوں میں سے اصح روایت کے مطابق روٹی کی بیع گندم اورآٹے کے ساتھ کمی بیشی کے ساتھ جائز ہے، لوگوں میں جس طرح رائج ہو خواہ ازروئے عددبیع کی جائے یاازروئے وزن، اور کہاگیاہے کہ ہمارے علماء ثلاثہ (یعنی امام اعظم ابوحنیفہ ،اما م ابویوسف ،امام محمدرضی ا للہ تعالی عنہم) کایہی ظاہر مذہب ہے، اور اسی پر فتوٰی ہے؛ کیونکہ روٹی بناوٹ کی تبدیلی کی وجہ سے مختلف جنس ہوگئی''۔ 

    اسی طرح اگر کوئی دو اشیاء کہ جن کی اصل ایک ہو مگر ان کے مقصود میں تبدیلی آجائے تو مختلف جنس شمار کی جاتی ہیں،مثلا ًدنبے کاگوشت اور چکتی اورپیٹ کی چر بی کہ ان میں ہر ایک علیحدہ جنس ہے ۔
Flag Counter