| کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم |
اوریہی و جہ ہے کہ جو چیز پاکستانی ایک روپیہ کے بدلے میں ایک ملتی ہے، وہی چیز ایک امریکن ڈالر کے بدلے میں تقریباًساٹھ کی تعداد میں مل جاتی ہے، اورایک سعودی ریال کے بدلے میں تقریباً پندرہ یا سولہ تک مل سکتی ہے۔ اسی طرح وہ چیز مختلف ممالک کی کرنسی کے اعتبارسے مختلف تعداد میں خریدی جا سکتی ہے اور یہ تعدادقوت خرید کی تبدیلی کے ساتھ تبدیل بھی ہوجاتی ہے۔
چنانچہ قوا نینِ شرعیہ کی روشنی میں جب کسی چیز کے مقصود یااصل یابناوٹ میں ایسی تبدیلی آجائے کہ جس کی و جہ سے اس کانام اور کام بدل جائے تو اسکی جنس کے بدلنے کا حکم لگا دیا جاتا ہے،جیساکہ علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''إن الاختلاف باختلاف الأصل أوالمقصود أوبتبدل الصفۃ''۔
(''الدرالمختار''مع'' رد المحتار''،کتاب البیوع، باب الربا، ج ۷ ،ص ۴۳۷)ترجمہ:"جنس میں اختلاف اصل یامقصودیاصفت کے بدلنے سے ہوتاہے"۔
اسی طرح صدرالشریعہ بدرالطریقہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمہ اللہ تعالی اس مسئلہ کو تفصیل سے ارشاد فرماتے ہیں:
'' مقصد یہ ہے کہ جنس کے اختلاف واتحادمیں اصل کا اتحادو اختلاف معتبر نہیں بلکہ مقصود ااختلاف جنس کو مختلف کردیتاہے، اگرچہ اصل ایک ہو،اوریہ بات ظاہرہے کہ روئی اورسوت اورکپڑے کے مقاصد مختلف ہیں،یونہی گیہوں اور اس کے آٹے کو روٹی سے بیع کرسکتے ہیں کہ ان کی بھی جنس مختلف ہے''۔ (''بہارشریعت''،ج ۲،حصہ۱۱،ص ۹۸)چنانچہ کسی بھی دواشیاء کی اصلیت اگرچہ ایک ہی کیوں نہ ہو اگر ان کے مقصود یا