جب تک کہ فقیر ان نوٹوں کے بدلے میں کوئی چیز خریدنہ لیتااور اگر فقیر کے استعمال سے پہلے یہ نوٹ گم ہوجاتے یا ضائع ہو جاتے تو بھی اس کی زکوٰۃ ادانہیں ہوتی۔
اور جن علماء کی رائے میں نوٹ ثمنِ اصطلاحی ہے اُن کے نزدیک نوٹ کے ذریعے سے ثمن خلقی یعنی سوناچاندی کی بیع بلاشبہ جائزہے۔ اس پر زکوۃ واجب ہوتی ہے اور نوٹ کی ادائیگی سے زکوٰۃ بھی ادا ہوجاتی ہے۔
اسی طرح اور بہت سارے ایسے فقہی مسائل تھے جو صرف نوٹ کی فقہی حیثیت کے متعین نہ ہونے کی و جہ سے علماء کے درمیان مختلف رہے۔
چنانچہ نوٹ کی فقہی حیثیت کے متعین نہ ہونے کی و جہ سے عرب وعجم کے علماء حیران و پریشان تھے ، جب کبھی مفتیانِ عظام سے نوٹ کی شرعی حیثیت کے بارے میں دریافت کیاجاتاتوکوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملتاتھایہاں تک کہ مکہ مکرمہ زادھا اللہ شرفاًوتعظیماًکے مفتی احناف، جمال بن عبداللہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس کاشرعی حکم بیان کرنے سے اپنا عذر یہ کہہ کر پیش کردیا کہ