Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
25 - 199
ذریعے خرید و فروخت ، زکوۃ کی ادائیگی ،اور دیگر معاملات میں اختلافات رونماہوئے ۔
نوٹ اور خرید و فر وخت اور زکوٰۃ کے أحکام
    چنانچہ جن علماء نے نوٹ کو رسید سمجھاان کے نزدیک نوٹ کے بدلے اشیاء کی خرید و فروخت میں نوٹ کااداکیاجانا "حوالہ"کی حیثیت رکھتاتھا۔ یعنی نوٹ کی ادائیگی کرنے والا قیمت کا"حوالہ"بینک یا حکومت کے کسی ایسے ادارے پرکردیتاتھا جہاں سے نوٹ شائع ہوتے تھے ۔ چنانچہ ان حضرات کے نزدیک نوٹ پر "حوالہ" کے احکامات عائد ہوتے تھے۔ اسی لئے ان کے نزدیک نوٹ کے ذریعے سے کیے جانے والے تمام سودے ادھار ہواکرتے تھے،اوران علماء کے نزدیک نوٹ کے ذریعے سے سونے چاندی کی خرید وفروخت ناجائز تھی؛کیونکہ نوٹ کے ذریعے سے سونا چاندی کی خریدو فروخت کرنادر حقیقت اس سونے چاندی کی خرید و فروخت تھی جس کی یہ نوٹ رسید تھے۔

چنانچہ یہ '' بیعِ صَرف'' ( یعنی ایسی بیع جس میں ثمن خلقی کے بدلے ثمن خلقی کو خریدا یا بیچا جاتا ہے جیسے نقدین( یعنی سونے اور چاندی ) کے بدلے سونے اور چاندی کی بیع)تھی، اور "بیع صَرف" میں یہ ضروری ہے کہ" بدلَین "یعنی خریدی اور بیچی جانے والی دونوں چیزوں پر اسی مجلس میں خریدنے اوربیچنے والے کا قبضہ ہوجائے اور نوٹ کے ذریعے سے سوناچاندی کی بیع
(Sale)
میں یہ شرط مفقود
 (Lost)
تھی ۔

    اسی طرح ان حضرات کے نزدیک نوٹ کی موجودگی میں زکوٰۃ کی ادائیگی بھی واجب نہ تھی، اگرچہ لاکھوں روپوں کے نوٹ موجود ہوں۔اور اسی طرح اگرکوئی نوٹ کے ذریعے سے زکوٰۃ کی ادائیگی کرتاتھا تو اس کی زکوۃاس وقت تک ادانہیں ہوتی تھی
Flag Counter