Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
23 - 199
                               مقدمہ 

                              نوٹ کی فقہی حیثیت
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ العَالَمِیْنَ وَالصَّلا ۃُ وَالسَّلاَمُ عَلٰی سَیِّدِ الأَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ وَعَلٰی آلِہِ وَأَصْحَابِہِ أَجْمَعِیْنَ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُبِاللہِ مِنَ الشَیْطٰنِ الرَّجِیم  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نوٹ جو کہ درحقیقت کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے کافی عرصہ سے بطور مال استعمال کیا جارہا ہے لوگ اس کے ذریعے سے اپنی ضرورتیں پوری کرتے ہیں ،خرید و فروخت کرتے ہیں،اس کی حفاظت کرتے ہیں۔الغرض مال ہونے کی حیثیت سے اسے ہر جگہ استعمال کیا جاتا ہے لیکن اس کی فقہی حیثیت کے بارے میں علماء کرام رحمہم اللہ کے درمیان کافی اختلاف رہا کوئی اسے سونے کی رسید
 (Receipt)
کہتا اورکوئی ثمنِ اصطلاحی( ثمن اصلاحی
 (Terminological currency)
وہ ثمن ہے جو در حقیقت متاع (سامان) ہوتاہے لیکن لوگوں کی اصطلاح
 (Terminology)
نے اسے ثمن بنادیا ہو جیسے کرنسی نوٹ اورتانبے یا پیتل کے سکے)۔ علماء کے درمیان اس اختلاف
(Conflict)
کی اصل و جہ بذا ت خود نوٹ تھا کیونکہ نوٹ ابتداء ً سونے کی رسیدتھے اور انہیں بینک کے سپرد کرکے سونا بھی وصول کیاجاسکتاتھا۔

    جبکہ بدلتے ہوئے اقتصادی ومعاشی حالات کے پیش نظر حکومتوں نے اس بات کی ضرورت محسوس کی کہ اپنی ضرورتیں اور حاجتیں پوری کرنے کے لئے زیاد ہ سے زیادہ نوٹ جاری کیے جائیں چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ اور آہستہ آہستہ ان نوٹوں کی تعداد
Flag Counter