(۲۶) بیع سلم :اس بیع کو کہتے ہیں جس میں ثمن پہلے دیا جاتا ہے اور مبیع کچھ مدت بعد دی جاتی ہے۔
فائدہ : بیع سلم کو لفظ "بدلی "سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔
(۲۷) بیع عینہ:کوئی شخص ایک چیز ادھار بیچے اور خریدنے والے کے قبضہ میں دے اورپھر ثمن وصول کرنے سے پہلے بیچنے والا خود اس چیز کو پچھلے ثمن سے کم پر نقد خریدلے۔
(۲۸) قبضہ طرفین : بائع ا و ر مشتری میں سے ہر ایک کا ثمن اور مبیع پر قبضہ کرلیناقبضہ طرفین کہلاتا ہے اور قبضہ طرفین صِرف" بیعِ صَرف" میں شرط ہے ۔
(CUSTODY FROM BOTH SIDES)
(۲۹) یَدَاً بِیَد ٍ( دست بدست) سے فقہاء کرام کی مراد یہ ہے کہ مبیع اور ثمن دونوں چیزیں معیّن ہو جائیں یعنی بائع اورمشتری پر کسی طرح کا دَ ین ( قرض ) نہ رہے۔