Brailvi Books

خوفناک جادو گر
26 - 26
            دنیا کی حکومت دو نہ دولت دو نہ ثروت 

             ہر چیز    ملی جامِ    مَحَبَّت جو   پلایا 

قدموں سے لگا لو مجھے  سینے سے لگا لو 

خواجہ ہے زمانے نے بڑا مجھ کو ستایا 

              ڈوبا،  ابھی ڈوبا،  مجھے للہ  سنبھالو 

             سیلاب گناہوں کا بڑے زور سے آیا 

اب چشمِ شفا، بہرِ خدا سُوئے مریضاں 

عصیاں کے مرض نے ہے بڑا زور دکھایا 

               سرکارِ مدینہ   کا بنا دیجئے   عاشق 

              یہ عرض لئے شاہ کراچی سے میں آیا 

یا خواجہ کرم کیجئے ہوں ظلمتیں کافور 

باطل نے بڑے زور سے سر اپنا اٹھایا 

          عطارؔ کرم ہی سے ترے جم کے کھڑا ہے 

             دشمن نے گرانے کو بڑا زور لگایا