اللہ عَزَّوَجَلَّ عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہادَۃ ہے، اس کا علمِ غیب ذاتی ہے اور ہمیشہ ہمیشہ سے ہے جبکہ ا نبِیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اور ا ولیاءِ عِظام رَحِمَہُمُ اللہُ السّلام کا علمِ غیب عطائی بھی ہے اور ہمیشہ ہمیشہ سے بھی نہیں۔ انہیں جب سےاللہ عَزَّوَجَلَّ نے بتایا تب سے ہے اور جتنا بتایا اُتنا ہی ہے، اِس کے بتائے بغیرایک ذرّہ کا بھی نہیں۔ ہوسکتا ہے کسی کو یہ وَسوَسہ آئے کہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے بتادیا تو غیب، غیب ہی نہ رہا۔ اس کا جواب آگے آرہا ہے کہ قرآنِ پاک میں نبی کے علمِ غیب کو غیب ہی کہا گیاہے۔ اب رہا یہ کہ کس کو کتنا علمِ غیب ملا، یہ دینے والا جانے اور لینے والا جانے۔ علمِ غیبِ مصطفےٰ صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلّم کے بارے میں پارہ 30 سُورۃُ التّکویرآیت نمبر 24میں ارشاد ہوتا ہے :