اس مثال میں فاعل (بکر) مفعول (بقرۃ) کو مأخذ( بیچنے کی جگہ جو کہ منڈی ہے) وہاں لے گیا اور اسی کو تعریض کہتے ہیں۔
(20)۔۔۔۔۔۔لِیَاقَت:
مثال معنی مأخذ مدلولِ مأخذ
أَمْرَطَ الشَّعْرُ بال نوچنے کے قابل ہوگئے مَرَطٌ نوچنا
اس مثال میں فاعل(الشعر) مأخذ ( نوچنے )کے قابل ہوگئے ۔
(21)۔۔۔۔۔۔ حَیْنُوْنَتْ:
مثال معنی مأخذ مدلولِ مأخذ
أَحْصَدَ الزَّرْعُ کھیتی کاٹنے کے وقت کو پہنچ گئی حَصَادٌ کھیتی کاٹنا
اس مثال میں فاعل( اَلزَّرْع) مأخذ (کٹائی) کے وقت کو پہنچ گئی ۔
(22)۔۔۔۔۔۔مطاوعت تَفْعِیْل: باب تفعیل کے بعد باب افعال کا اس غرض سے آنا تاکہ یہ ظاہر ہو کہ پہلے فعل کے فاعل نے اپنے مفعول پر جو اثر کیا تھامفعول نے اس اثر کو قبول کرلیاہے۔جیسے: بَشَّرْتُہ، فَأَبْشَرَ،( میں نے اسے خوش کیا تو وہ خوش ہوگیا)۔ متکلم نے مفعول کو خوشخبری سنائی تو اسے خوشی ہوئی یعنی اس نے خوشی والا اثر قبول کرلیا۔
(23)۔۔۔۔۔۔کَثْرَتِ مَأخَذ:
مثال معنی مأخذ مدلول مأخذ
أَبْعَضَ الْبَیْتُ گھر زیادہ مچھروں والا ہوگیا بَعُوْضَۃٌ مچھر