اس مثال میں فاعل(بکر) مأخذ(ہرن) سے حیرت زدہ ہوا ۔
(15)۔۔۔۔۔۔وِجْدَان:
مثال معنی مأخذ مدلو لِ مأخذ
لَذِذْتُہ، میں نے اسے لذیذ پایا لَذَّۃٌ کسی چیز کالذیذہونا
اس مثال میں فاعل(ذات متکلم)نے مأخذ والی صفت یعنی لذت کو پایا۔اور یہ جملہ اس وقت بولاجاتاہے جب فاعل نے اس صفت کو یقینی طور پرپایا ہو نہ کہ بناوٹی طور پر جیساکہ تَفَعُّلْ کے خاصہ تَکَلُّف میں ہوتاہے ۔
(16)۔۔۔۔۔۔وُقُوْع:
مثال معنی مأخذ مدلولِ مأخذ
وَحِلَ عَمْرٌو عمر وکیچڑ میں گر پڑا وَحْلٌ کیچڑ
اس مثال میں فاعل (عَمَرو ) مأخذ (کیچڑ) میں گرا۔
نوٹ:
مذکورہ بالا خاصیات کے علاوہ با ب سَمِعَ کاایک خاصہ یہ بھی ہے کہ بیماری، خوشی اور غم پر دلالت کرنے والے اکثر افعال اسی باب سے آتے ہیں۔ اسی طرح عیب ،رنگ اور عارضی اوصاف پر دلالت کرنے والے افعال بھی زیادہ ترباب سَمِعَ یَسْمَعُ سے آتے ہیں۔البتہ چند ایک ایسے افعال باب کَرُمَ سے بھی استعمال ہوتے ہیں۔