زید اونٹ پر سوار ہوا، یہ دونوں باب ہم معنی ہیں۔
۳۔موافقت إِفْعَال:
باب فتح کا باب إِفْعَال کے ہم معنی ہونا۔جیسے: قَعَطَ بَکْرٌ وَانْقَعَطَ بَکْرٌ ، بکر بہت چیخا، یہ دونوں باب ہم معنی ہیں کہ ان کے درمیان معنی میں موافقت ہے۔
۴۔موافقت تَفْعِیْل:
باب فَتَحَ کا باب تَفْعِیْل کے ہم معنی ہونا۔جیسے: شَسَعَ زَیْدٌ وَ شَسَّعَ زَیْدٌ، زید نے تسمہ بنایا، دونوں باب ہم معنی ہیں کہ ان کے مابین معنی میں موافقت ہے۔
(3)۔۔۔۔۔۔اِتِّخَاذ:
مثال معنی مأخذ مدلول مأخذ
شَسَعَ زَیْدٌ زید نے تسمہ بنایا شِسْعٌ تسمہ جس سے کسی چیز کو باندھا جاتاہے۔
اس مثال میں فاعل (زید) نے مأخذ (تسمہ )بنایاہے ۔
(4)۔۔۔۔۔۔تَدْرِیْج:
فاعل کا کسی کام کو آہستہ آہستہ کرنا ۔جیسے: قَدَعَ خَالِدٌ، خالدنے گھونٹ گھونٹ پیا۔اس مثا ل میں فاعل (خالد) نے پینے والا فعل آہستگی سے کیا۔