زَاتَ زَیْدٌ عَلیٰ رأسِ عَمْرٍو زید نے عمرو کے سر پر زیتون کا تیل مَلا زِیْتٌ زیتون کاتیل
اس مثال میں فاعل(زید)نے عمرو کے سر پر مأخذ(زیتون کاتیل) مَلا۔
(14)۔۔۔۔۔۔ مُطَاوَعَتِ إِفْعَال:
یعنی باب إِفْعَال کے بعد باب ضَرَبَ یَضْرِبُ سے کسی فعل کا آنا تاکہ معلوم ہوسکے کہ پہلے فعل کے فاعل نے مفعول پر جو اثرکیاتھا مفعول نے اس اثرکو قبول کرلیاہے ۔ جیسے: أَزَاحَ زَیْدٌ عَمْروًا فَزَاحَ: زید نے عمرو کو جدا کیاتو وہ جدا ہوگیا۔
اس مثال میں أَزَاح فعل کے فاعل(زید)نے مفعول(عمرو)کو جدا کیاتو مفعول جدا ہوگیا،یعنی مفعول عمرونے اپنے فاعل (زید)کے فعل کے اثر کو قبول کر لیاہے،اسی کانام مُطَاوَعَت ہے ۔
(15)۔۔۔۔۔۔ تَـأَذّٰی:
مثال معنی مأخذ مدلول مأخذ
جَرَدَ زَیْدٌ زیدنے ٹڈی کھانے سے تکلیف اٹھائی جَرَادٌ ٹڈی
اس مثال میں فاعل(زید)نے مأخذ ( ٹڈی) کھانے سے تکلیف اٹھائی ۔
(16)۔۔۔۔۔۔ قَصْر:
کسی مرکب کو مختصر کرنے کی خاطر اس سے کوئی کلمہ مشتق کرلینا۔ جیسے: سَقَاکَ اللٰہُ سَقْیاً سے لفظ سَقْیاً مشتق کرلیا،اورا س طویل جملے کی بجائے اِخْتِصَاراً کسی کو دعادیتے ہوئے صرف سَقْیاً کہہ دیاجاتاہے۔