صیغہ معنی مأخذ مدلول مأخذ
أَبَدَ الشَّاعِرُ الشِّعْرَ شاعرنے شعر کو غَرِیْبُ اللُغَۃ بنادیا أبد نامانوسی
اس مثال میں فاعل (الشاعر) نے مفعول (الشعر) کو مأخذ (نامانوس) بنادیا ۔
(4)۔۔۔۔۔۔ تَدْرِیْج:
فاعل کا کسی کام کو آہستہ آہستہ کرنا۔ جیسے: ضَمَسَ زَیْدٌ: زید نے آہستہ آہستہ چبایا۔ اس مثال میں فاعل(زید)نے چبانے والا فعل آہستہ آہستہ کیا، اسی کو تدریج کہاجاتاہے۔
نوٹ:
یہ بات یاد رہے کہ جس فعل میں تدریج والا معنی پایاجاتاہو(چاہے کسی باب سے ہو) اس میں آہستگی والے معنی پر دلالت کرنے کے لئے کوئی الگ لفظ نہیں ہوتا۔
(5)۔۔۔۔۔۔کَثْرَتِ مَأخَذ:
مثا ل معنی مأخذ مدلول مأخذ
وَسَبَ الْاَرْضُ زمین زیادہ گھاس والی ہو گئی وِسْبٌ گھاس
اس مثال میں فعل کا مأخذ وِسْبٌ ہے یعنی گھاس زمین میں کثیر ہوگئی۔
(6)۔۔۔۔۔۔ اِطْعَامِ مَأخَذ:
مثال معنی مأخذ مدلول مأخذ