Brailvi Books

خاصیات ابواب الصرف
28 - 136
ہے یعنی زید نے عمرو کی پیٹھ پر مارا۔

۲ ۔ موافقتِ بابتَفْعِیْل:

     بابِ ضَرَبَ یَضْرِبُ کا بابِ تَفْعِیْل کے ہم معنی ہونا۔ جیسے:عَجَزَتِ الْمَرْأَۃُ اورعَجَّزَتِ الْمَرْأَۃُ یہ دونوں فعل ہم معنی ہیں یعنی عورت عمر رسیدہ ہو گئی۔ 

۳ ۔ موافقت بابتَفَعُّل:

     باب ضَرَبَ یَضْرِب کا باب تَفَعُّل کے ہم معنی ہونا۔جیسے: وَرَکَ زَیْدٌ اور تَوَرَّکَ زَیْدٌ : زید نے سرین پر سہارا لیا۔ یہ دونوں فعل ہم معنی ہیں اوراسی طرح خَرَقَ زَیْدٌاور تَخَرَّقَ زَیْدٌ یعنی زید نے جھوٹ گھڑا ۔

(3)۔۔۔۔۔۔اِتِّخَاذ:

    اتخاذکامعنی ہے فاعل کاکسی چیز کولینا یابنانا ۔اس کی چند صورتیں بنتی ہیں:

(الف)۔۔۔۔۔۔ فاعل کامأخذکو بنانا۔جیسے:

صیغہ		معنی			مأخذ		مدلول مأخذ

حَلٰی زَیْدٌ	              زید نے زیور بنایا                              		حلی                           		زیور

    اس مثال میں فاعل( زید)نے مأخذ ( زیور) کو بنایاہے ۔

(ب)۔۔۔۔۔۔ فاعل کامأخذکو لینا۔جیسے:

صیغہ				معنی			مأخذ	مدلول مأخذ

خَمَسَ زَیْدُن الْمَالَ	زید نے مال کا پانچواں حصہ لیا		                         خمس                                 	پانچواں حصہ

    اس مثال میں فاعل(زید)نے مأخذ( پانچواں حصہ) کو لیاہے ۔

(ج)۔۔۔۔۔۔ فاعل کا کسی چیز کومأخذ بنانا۔جیسے: