ہے یعنی زید نے عمرو کی پیٹھ پر مارا۔
۲ ۔ موافقتِ بابتَفْعِیْل:
بابِ ضَرَبَ یَضْرِبُ کا بابِ تَفْعِیْل کے ہم معنی ہونا۔ جیسے:عَجَزَتِ الْمَرْأَۃُ اورعَجَّزَتِ الْمَرْأَۃُ یہ دونوں فعل ہم معنی ہیں یعنی عورت عمر رسیدہ ہو گئی۔
۳ ۔ موافقت بابتَفَعُّل:
باب ضَرَبَ یَضْرِب کا باب تَفَعُّل کے ہم معنی ہونا۔جیسے: وَرَکَ زَیْدٌ اور تَوَرَّکَ زَیْدٌ : زید نے سرین پر سہارا لیا۔ یہ دونوں فعل ہم معنی ہیں اوراسی طرح خَرَقَ زَیْدٌاور تَخَرَّقَ زَیْدٌ یعنی زید نے جھوٹ گھڑا ۔
(3)۔۔۔۔۔۔اِتِّخَاذ:
اتخاذکامعنی ہے فاعل کاکسی چیز کولینا یابنانا ۔اس کی چند صورتیں بنتی ہیں:
(الف)۔۔۔۔۔۔ فاعل کامأخذکو بنانا۔جیسے:
صیغہ معنی مأخذ مدلول مأخذ
حَلٰی زَیْدٌ زید نے زیور بنایا حلی زیور
اس مثال میں فاعل( زید)نے مأخذ ( زیور) کو بنایاہے ۔
(ب)۔۔۔۔۔۔ فاعل کامأخذکو لینا۔جیسے:
صیغہ معنی مأخذ مدلول مأخذ
خَمَسَ زَیْدُن الْمَالَ زید نے مال کا پانچواں حصہ لیا خمس پانچواں حصہ
اس مثال میں فاعل(زید)نے مأخذ( پانچواں حصہ) کو لیاہے ۔
(ج)۔۔۔۔۔۔ فاعل کا کسی چیز کومأخذ بنانا۔جیسے: