قوم تتر بتر ہوگئی۔ دونوں فعل ہم معنی ہیں۔
(۲)۔۔۔۔۔۔مطاوعت خود: باب فَعْلَلَ سے دو فعلوں کا اس غرض سے آنا تاکہ یہ ظاہر ہو کہ پہلے فعل کے فاعل نے اپنے مفعول پر جو اثر کیا تھا مفعول نے اس اثر کو قبول کرلیاہے۔جیسے:
غَطْرَشَ اللَّیْلُ بَصَرَہ، فَغَطْرَشَ :
رات نے اس کی نگاہ کو پوشید ہ کیا تو وہ پوشیدہ ہوگئی۔
(۳)۔۔۔۔۔۔تدریج: جیسے: ہَرْمَزَ شَفِیْقٌ: شفیق نے آہستہ آہستہ چبایا۔
اس مثال میں فاعل(شفیق)نے چبانے کافعل آہستہ آہستہ کیاہے اور اسی کوتدریج کہاجاتاہے۔
(۴)۔۔۔۔۔۔لبس مأخذ:
مثال معنی مأخذ مدلول مأخذ
حَنْبَلَ زَیْدٌ زید نے موزہ پہنا حَنْبَلٌ موزہ
اس مثال میں فاعل(زید)نے مأخذ( موزہ) پہنا ۔
(۵)۔۔۔۔۔۔تعمل:
مثال معنی مأخذ مدلول مأخذ
زَرْنَقَ فَلَّاحٌ کسان نے سیرابی زمین میں چھوٹی نہر استعمال کی زَرْنُوْقٌ چھوٹی نہر