Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
76 - 342
 سمع وبصر کی طاقتوں کو عام انسانوں کے کان وآنکھ اوران کی قوتوں پر ہرگزہرگز قیاس نہیں کرناچاہیے بلکہ یہ ایمان رکھنا چاہئے کہ اللہ  تعالیٰ نے اپنے محبوب بندوں کے کان اور آنکھ کو عام انسانوں سے بہت ہی زیادہ طاقت عطافرمائی ہے اوران کی آنکھوں، کانوں اوردوسرے اعضاء کی طاقت اس قدر بے مثل اوربے مثال ہے اوران سے ایسے ایسے کارہائے نمایاں انجام پاتے ہیں کہ جن کو دیکھ کر کرامت کے سوا کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔

{۳}حدیث مذکوربالا سے یہ بھی ثابت ہوتاہے کہ امیر المؤمنین حضرت فاروق اعظم رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کی حکومت ہوا پر بھی تھی اورہوا بھی ان کے کنٹرول میں تھی اس لئے کہ آوازوں کو دوسروں کے کانوں تک پہنچانادرحقیقت ہوا کا کام ہے کہ ہوا کے تموج ہی سے آوازیں لوگوں کے کانوں کے پردوں سے ٹکراکرسنائی دیا کرتی ہیں ۔ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ  تعالیٰ عنہ نے جب چاہا اپنے قریب والوں کو اپنی آواز سنادی اورجب چاہا تو سینکڑوں میل دور والوں کو بھی سنا دی ، اس لئے کہ ہوا آپ کے زیر فرمان تھی، جہاں تک آپ نے چاہا ہواسے آواز پہنچانے کا کام لے لیا۔ 

	سبحان اللہ  ! سچ فرمایا حضوراکرم صلی اللہ  تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے کہ
 مَنْ کَانَ لِلّٰہِ کَانَ اللّٰہُ لَہٗ(1)
(یعنی جو خدا کا بندہ فرماں بردار بن جاتاہے توخدا اس کا کارساز ومددگار بن جاتاہے ) اسی مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضر ت شیخ سعدی رحمۃ اللہ  تعالیٰ علیہ نے کیا خوب فرمایا ہے    ؎
1…تفسیر روح البیان،سورۃ لقمان،تحت الایۃ:۴،ج۷،ص۶۴
تو ہم گردن از حکمِ داور مپیچ

کہ گردن نہ پیچد زِ حکم تو ہیچ
(یعنی توخدا کے حکم سے سرتابی نہ کر ، تاکہ تیرے حکم سے دنیا کی کوئی چیز روگردانی نہ کرے۔)
دریا کے نام خط
	روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں ایک مرتبہ مصرکا دریائے نیل خشک ہوگیا۔ مصری باشندوں نے مصر کے گورنر عمرو بن
Flag Counter