سمع وبصر کی طاقتوں کو عام انسانوں کے کان وآنکھ اوران کی قوتوں پر ہرگزہرگز قیاس نہیں کرناچاہیے بلکہ یہ ایمان رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندوں کے کان اور آنکھ کو عام انسانوں سے بہت ہی زیادہ طاقت عطافرمائی ہے اوران کی آنکھوں، کانوں اوردوسرے اعضاء کی طاقت اس قدر بے مثل اوربے مثال ہے اوران سے ایسے ایسے کارہائے نمایاں انجام پاتے ہیں کہ جن کو دیکھ کر کرامت کے سوا کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔
{۳}حدیث مذکوربالا سے یہ بھی ثابت ہوتاہے کہ امیر المؤمنین حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حکومت ہوا پر بھی تھی اورہوا بھی ان کے کنٹرول میں تھی اس لئے کہ آوازوں کو دوسروں کے کانوں تک پہنچانادرحقیقت ہوا کا کام ہے کہ ہوا کے تموج ہی سے آوازیں لوگوں کے کانوں کے پردوں سے ٹکراکرسنائی دیا کرتی ہیں ۔ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب چاہا اپنے قریب والوں کو اپنی آواز سنادی اورجب چاہا تو سینکڑوں میل دور والوں کو بھی سنا دی ، اس لئے کہ ہوا آپ کے زیر فرمان تھی، جہاں تک آپ نے چاہا ہواسے آواز پہنچانے کا کام لے لیا۔
سبحان اللہ ! سچ فرمایا حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے کہ