| کراماتِ صحابہ |
نے یہ خبر دی کہ میدان جنگ میں جب کفار سے مقابلہ ہوا تو ہم کو شکست ہونے لگی اتنے میں ناگہاں ایک چیخنے والے کی آواز آئی جو چلا چلا کریہ کہہ رہا تھا کہ اے ساریہ ! تم پہاڑ کی طرف اپنی پیٹھ کرلو ۔ حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یہ تو امیر المؤمنین حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آواز ہے، یہ کہا اورفوراً ہی انہوں نے اپنے لشکر کو پہاڑ کی طرف پشت کر کے صف بندی کا حکم دیا اور اس کے بعد جو ہمارے لشکر کی کفار سے ٹکر ہوئی تو ایک دم اچانک جنگ کا پانسہ ہی پلٹ گیا اوردم زدن میں اسلامی لشکرنے کفار کی فوجوں کو روندڈالا اورعساکر اسلامیہ کے قاہرانہ حملوں کی تاب نہ لاکر کفار کا لشکر میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ نکلا اور افواج اسلام نے فتح مبین کا پرچم لہرا دیا۔ (1)
(مشکوٰۃ باب الکرامات ، ص۵۴۶وحجۃ اللہ ج۲،ص۸۶۰وتاریخ الخلفاء،ص۸۵)
تبصرہ:
حضرت امیرالمؤمنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس حدیث کرامت سے چند باتیں معلوم ہوئیں جو طالب حق کے لیے روشنی کا مینارہ ہیں۔
{۱}یہ کہ حضرت امیرالمؤمنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورآپ کے سپہ سالار دونوں صاحب کرامت ہیں کیونکہ مدینہ منورہ سے سینکڑوں میل کی دوری پر آواز کو پہنچا دینا یہ امیر المؤمنین کی کرامت ہے اورسینکڑوں میل کی دوری سے کسی آواز کو سن لینا یہ حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کرامت ہے۔
{۲}یہ کہ امیرالمؤمنین نے مدینہ طیبہ سے سینکڑوں میل کی دوری پر نہاوند کے میدان جنگ اور اس کے احوال وکیفیات کو دیکھ لیا اورپھرعساکر اسلامیہ کی مشکلات کا حل بھی منبر پرکھڑے کھڑے لشکر کے سپہ سالار کو بتا دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اولیائے کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم کے کان اورآنکھ اوران کی1…تاریخ الخلفاء، الخلفاء الراشدون، عمرالفاروق، فصل فی کراماتہ، ص۹۹ ملتقطاًوحجۃ اللّٰہ علی العالمین،الخاتمۃ فی اثبات کرامات الاولیاء...الخ،المطلب الثالث فی ذکرجملۃ جمیلۃ...الخ، ص۶۱۲ ملخصاً