Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
53 - 342
اولیاء کرام سے بہت زیادہ افضل و اعلیٰ اوربلند وبالا ہے۔

    بہرحال اگرچہ تعداد میں کم سہی لیکن پھر بھی بہت سے صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے کرامتوں کا صدور وظہور ہوا ہے۔چنانچہ ہم اپنی اس مختصر سی کتاب میں بعض صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی چند کرامات کا تذکرہ تحریرکرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں تاکہ اہل ایمان پیارے حبیب علیہ الصلوۃ والسلام کی شمع نبوت کے ان پروانوں کی ولایت وکرامت کے ایمان افروز تذکروں سے اپنی دنیا ئے دل کو محبت وعقیدت کے شجرات الخلد کی جنت بنائیں اور دُشمنانِ صحابہ یا تو آفتاب رسالت کے نور سے چمکنے والے ان روشن ستاروں سے ہدایت کی روشنی حاصل کریں یا پھراپنی آتش بغض وعناد میں جل بھن کر جہنم کا ایندھن بن جائیں ۔
عشرۂ مبشرہ
    یوں توحضور رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اپنے بہت سے صحابیوں رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو مختلف اوقات میں جنت کی بشارت دی اوردنیا ہی میں ان کے جنتی ہونے کااعلان فرمادیامگردس ایسے جلیل القدر اورخوش نصیب صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہیں جن کو آ پ نے مسجد نبوی کے منبر شریف پر کھڑے ہوکرایک ساتھ ان کا نام لے کر جنتی ہونے کی خوش خبری سنائی ۔ تاریخ میں ان خوش نصیبوں کا لقب ''عشرہ مبشرہ ''ہے جن کی مبارک فہرست یہ ہے :
(۱)حضرت ابو بکرصدیق		(۲)حضرت عمر فاروق

(۳)حضرت عثمان غنی 			(۴)حضرت علی مرتضیٰ
Flag Counter