Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
52 - 342
میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزارتھی ۔(1)( واللہ تعالیٰ اعلم)
 (زرقانی ج۳،ص۱۰۶ومدارج ج۲،ص۳۸۷)
افضل الاولیاء
    تمام علماء امت واکابرامت کا اس مسئلہ پر اتفاق ہے کہ صحابۂ  کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم ''افضل الاولیاء'' ہیں ۔ یعنی قیامت تک کے تمام اولیاء اگرچہ وہ درجہ ولایت کی بلند ترین منزل پر فائز ہوجائیں مگر ہرگز ہرگز کبھی بھی وہ کسی صحابی کے کمالات ولایت تک نہیں پہنچ سکتے۔خداوند قدوس نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی شمع نبوت کے پروانوں کو مرتبۂ ولایت کا وہ بلند وبالامقام عطافرمایا ہے اوران مقدس ہستیوں کو ایسی ایسی عظیم الشان کرامتوں سے سرفراز فرمایا ہے کہ دوسرے تمام اولیاء کے لیے اس معراج کمال کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔اس میں شک نہیں کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے اس قدر زیادہ کرامتوں کا صدور نہیں ہوا جس قدر کہ دوسرے اولیائے کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے کرامتیں منقول ہیں لیکن واضح رہے کہ کثرت کرامت افضلیت ولایت کی دلیل نہیں کیونکہ ولایت درحقیقت قرب الٰہی کا نام ہے ۔ یہ قربِ الٰہی جس کو جس قدر زیادہ حاصل ہوگا اسی قدر اس کی ولایت کا درجہ بلند سے بلند ترہوگا۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم چونکہ نگاہ نبوت کے انواراورفیضان رسالت کے فیوض وبرکات سے مستفیض ہیں اس لیے بارگاہ خداوندی میں ان بزرگوں کو جو قرب وتقرب حاصل ہے وہ دوسرے اولیا ء اللہ کو حاصل نہیں۔ اس لیے اگرچہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بہت کم کرامتیں صادر ہوئیں لیکن پھر بھی صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا درجہ ولایت دوسرے
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت،ذکر حجۃ الوداع،ج۲،ص۳۸۷
Flag Counter