چنانچہ مشہور ہے کہ ایک بدباطن بادشاہ نے کسی خدارسیدہ بزرگ کو گرفتار کیا اور انہیں مجبور کردیا کہ وہ کوئی تعجب خیز کرامت دکھائیں ورنہ انہیں اوران کے ساتھیوں کو قتل کردیا جائے گا۔
آپ نے اونٹ کی مینگنیوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ ان کو اٹھا لاؤ اوردیکھو کہ وہ کیا ہیں ؟جب لوگوں نے ان کو اٹھا کر دیکھاتو وہ خالص سونے کے ٹکڑے تھے ۔ پھر آپ نے ایک خالی پیالے کو اٹھا کر گھمایااوراوندھا کر کے بادشاہ کو دیا تو وہ پانی سے بھرا ہوا تھا اوراوندھاہونے کے باوجود اس میں سے ایک قطرہ بھی پانی نہیں گرا۔
یہ دوکرامتیں دیکھ کر یہ بدعقیدہ بادشاہ کہنے لگا کہ یہ سب نظر بندی کے جادو کا کرشمہ ہے ۔ پھر بادشاہ نے آگ جلانے کا حکم دیا۔ جب آگ کے شعلے بلند ہوئے تو بادشاہ نے مجلس سماع منعقد کرائی جب ان درویشوں کو سماع سنکر جوشِ وجد میں حال آگیا تو یہ سب لوگ جلتی ہوئی آگ میں داخل ہوکر رقص کرنے لگے ۔ پھر ایک درویش بادشاہ کے بچے کو گود میں لے کر آگ میں کودپڑا اورتھوڑی دیر تک بادشاہ کی نظروں سے غائب ہوگیا بادشاہ اپنے بچے کے فراق میں بے چین ہوگیا مگر پھر چند منٹوں میں درویش نے بادشاہ کے بچے کو اس حال میں بادشاہ کی گود میں ڈال دیا کہ بچے کے ایک ہاتھ میں سیب اور دوسرے ہاتھ میں انار تھا۔ بادشاہ نے پوچھا کہ بیٹا!تم کہاں چلے گئے تھے؟تو ا س نے کہا کہ میں ایک باغ میں تھا جہاں سے میں یہ پھل لایا ہوں۔
یہ دیکھ کربھی ظالم وبدعقیدہ بادشاہ کا دل نہیں پسیجا اور اس نے اس بزرگ کو باربار زہر کا پیالہ پلایا مگر ہر مرتبہ زہر کے اثر سے اس بزرگ کے کپڑے پھٹتے رہے