| کراماتِ صحابہ |
بعض روایات سے پتہ چلتاہے کہ جس شخص کو حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے حضرت سعد بن الربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لاش کا پتہ لگانے کے لیے بھیجا تھا وہ حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے چنانچہ حضرت ابو سعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہی قول ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ (1)(اسدالغابہ،ج۲،ص۲۷۷)
تبصرہ
اللہ اکبر!غورفرمائيے کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سے کتنی والہانہ محبت اورکس قدر عاشقانہ لگاؤ تھا کہ جان کنی کا عالم ہے ، زخموں سے نڈھال ہیں مگر اس وقت میں بھی حضور رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا خیال دل ودماغ کے گوشہ گوشہ میں چھایا ہوا ہے ۔ اپنے گھر والوں کے لیے ، اپنی بچیوں کے لیے کوئی وصیت نہیں فرماتے مگر رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے لیے اپنی ساری قوم کو کتنا اہم آخری پیغام دیتے ہیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی یہی وہ نیکیاں ہیں جو قیامت تک کسی کو نصیب نہیں ہوسکتیں اور اسی لئے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ساری امت میں وہی درجہ ہے جو آسمان پرستاروں کی برات میں چاند کا درجہ ہے ۔
حضرت سعدبن الربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کوئی بیٹا نہیں تھا فقط دو صاحبزادیاں تھیں جن کو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ان کی میراث میں سے دو ثلث عطا فرمایا۔واللہ تعالیٰ اعلم1۔۔۔۔۔۔حجۃ اللہ علی العالمین، الخاتمۃ فی اثبات کرامات الاولیاء...الخ، المطلب الثالث فی ذکر جملۃ جمیلۃ ...الخ، ص۶۱۹ واسد الغابۃ، سعد بن الربیع، ج۲، ص۴۱۴