حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ جنگ احد کے دن حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے مجھ کو حضر ت سعد بن الربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لاش کی تلاش میں بھیجا اورفرمایا کہ اگر وہ زندہ ملیں تو تم ان سے میراسلام کہہ دینا۔ چنانچہ جب تلاش کرتے کرتے میں ان کے پاس پہنچا تو ان کو اس حال میں پایا کہ ابھی کچھ کچھ جان باقی تھی میں نے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کاسلام پہنچایا تو انہوں نے جواب دیا اور کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سے میرا سلام کہہ دینا اورسلام کے بعد یہ بھی عرض کردینا کہ یا رسول اللہ! عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم میں جنت کی خوشبو میدان جنگ میں سونگھ چکا اورمیر ی قوم انصار سے میرا یہ آخری پیغام کہہ دینا کہ اگر تم میں ایک آدمی بھی زندہ رہا اورکفار کا حملہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم تک پہنچ گیا تو خدا تعالیٰ کے دربار میں تمہارا کوئی عذر قبول نہیں ہوسکتا اورتمہاراوہ عہد ٹوٹ جائے گا جو تم لوگوں نے بیعۃ العقبہ میں کیا تھا ، اتناکہتے کہتے ان کی روح پرواز کر گئی ۔
(حجۃ اللہ ،ج۲،ص۸۷۰بحوالہ حاکم وبیہقی)