صلح حدیبیہ کے بعد یہ اپنے قبیلہ بنی خزاعہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے اور دربار نبوت میں حاضر رہ کر حدیثیں یاد کرتے رہے ۔ پھر کوفہ چلے گئے اور وہاں سے مصر جا کر مقیم ہوگئے۔ کچھ دنوں شام میں بھی رہے ۔ ان کے شاگردوں میں جبیر بن نفیر اور رفاعہ بن شداد وغیرہ بہت مشہور محدثین ہیں ۔ یہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے طرفدار تھے اور جنگ جمل وصفین ونہروان میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ رہے جب حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خلافت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سونپ دی تو اس وقت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گورنر ''زیاد''کے خوف سے یہ عراق سے بھاگ کر ''موصل''کے ایک غار میں روپوش ہوگئے اوراسی غار میں ان کو سانپ نے کاٹ لیا جس سے ان کی وہیں وفات ہوگئی۔ علامہ ابن اثیر صاحب اسدالغابہ کا بیان ہے کہ ان کی قبر شریف موصل میں بہت ہی مشہور زیارت گاہ ہے ۔ قبر پر بہت بڑا گنبد اور لمبی چوڑی درگاہ ہے ۔ ۵۰ ھ میں آپ کی شہادت ہوئی ۔ (2)(اسدالغابہ،ج۴،ص۱۰۰)