Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
167 - 342
پھلانگتے ہوئے خیمہ میں تشریف لے گئے اوران کی لاش کے پاس تھوڑی دیر ٹھہر کر باہر تشریف لائے ۔ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ خیمہ میں لمبے لمبے قدم کے ساتھ پھلانگتے ہوئے داخل ہوئے حالانکہ خیمہ میں کوئی شخص بھی موجود نہ تھا ۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ خیمہ میں اس قدر فرشتوں کا ہجوم تھا کہ وہاں قدم رکھنے کی جگہ نہ تھی اس لئے میں نے فرشتوں کے بازوؤں کو بچا بچا کر قدم رکھا۔(1)

             (حجۃ اللہ علی العالمین ،ج۲،ص۸۶۸بحوالہ ابن سعد)
تبصرہ
    خداعزوجل کے نیک اورمحبوب بندوں کی نسبت سے جب انکی قبر کی مٹی میں مشک کی خوشبو پیدا ہوجاتی ہے تو ان مقدس قبروں کے پاس حاضر ہونے والے زائروں کی اگر بیماریاں زائل ہوکر انہیں تندرستی مل جائے یا ان کی نحوست وشقاوت دور ہوکر انہیں برکت وسعادت حاصل ہوجائے تو اس میں کونسا تعجب ہے ؟جن کی تاثیر سے مٹی مشک بن سکتی ہے کیا ا ن کی تاثیر سے بیماری تندرستی اوربدنصیبی خوش نصیبی نہیں بن سکتی۔

    کاش! وہ لوگ جو اولیاء اللہ کی قبروں کو مٹی کا ڈھیر کہہ کر قبروں کی زیارت کرنے والوں کامذاق اڑایا کرتے ہیں اوران مقدس قبروں کی تاثیروں کا انکار کرتے رہتے ہیں اس روایت سے ہدایت کی روشنی حاصل کرتے اورمقابر اولیاء اللہ کا ادب واحترام کرتے ۔
1۔۔۔۔۔۔حجۃ اللہ علی العالمین، الخاتمۃ فی اثبات کرامات الاولیاء...الخ، المطلب الثالث 

فی ذکر جملۃ جمیلۃ ...الخ، ص۶۱۷
Flag Counter