ابی طالب وحضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم تینوں سپہ سالاروں نے یکے بعد دیگرے جام شہادت نوش کرلیا تو اسلامی فوج نے ان کو اپنا سپہ سالار منتخب کیااورانہوں نے ایسی جاں بازی کے ساتھ جنگ کی کہ مسلمانوں کی فتح مبین ہوگئی ۔ اوراسی موقع پر جب کہ یہ جنگ میں مصروف تھے حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے مدینہ منورہ میں صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ایک جماعت کے سامنے ان کو ''سیف اللہ''(اللہ کی تلوار)کے خطاب سے سرفراز فرمایا ۔ امیرالمؤمنین حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورخلافت میں جب فتنہ ارتداد نے سراٹھایاتو انہوں نے ان معرکوں میں بھی خصوصاًجنگ یمامہ میں مسلمان فوجوں کی سپہ سالاری کی ذمہ داری قبول کی اورہر محاذپر فتح مبین حاصل کی ۔ پھر امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے دوران رومیوں کی جنگوں میں بھی انہوں نے اسلامی فوجوں کی کمان سنبھالی اوربہت زیادہ فتوحات حاصل ہوئیں ، ۲۱ھ میں چند دن بیماررہ کر وفات پائی ۔(1) (اکمال ،ص ۵۹۳وکنزالعمال جلد۱۵وتاریخ الخلفاء)