Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
151 - 342
فرمادیا تھا کہ تم لوگ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قتل مت کرنا کیونکہ وہ مسلمان ہوگئے ہیں لیکن کفار مکہ ان پر دباؤ ڈال کر انہیں جنگ میں لائے ہیں ۔ 

    یہ بہت ہی معزز اور مالدار تھے اورزمانہ جاہلیت میں بھی حجاج کو زمزم شریف پلانے اورخانہ کعبہ کی تعمیرات کا اعزاز آپ کو حاصل تھا۔ فتح مکہ کے دن انہیں کی ترغیب پر حضرت ابوسفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اسلام قبول کرلیا اور دوسرے سرداران قریش بھی انہیں کے مشوروں سے متأثر ہوکر اسلام کے دامن میں آئے۔ ان کے فضائل میں چند حدیثیں بھی مروی ہیں اورحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ان کو بہت سی بشارتیں اوربہت زیادہ دعائیں دی ہیں جن کا تذکرہ صحاح ستہ اور حدیث کی دوسری کتابوں میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔  ۳۲ھ؁ میں اٹھاسی برس کی عمر پاکر مدینہ منورہ میں وفات پائی اور جنت البقیع میں سپر د خاک کئے گئے ۔(1)

(اکمال ،ص۶۰۶وتاریخ الخلفاء وغیرہ)
کرامت

ان کے طفیل بارش ہوئی
    امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورخلافت میں جب شدید قحط پڑگیا اور خشک سالی کی مصیبت سے دنیا ئے عرب بدحالی میں مبتلا ہوگئی تو امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز استسقاء کے لیے مدینہ منورہ سے باہر میدان میں تشریف لے گئے اور
1۔۔۔۔۔۔الاکمال فی اسماء الرجال، حرف العین، فصل فی الصحابۃ، ص۶۰۶ مختصراً

واسد الغابۃ، عباس بن عبدالمطلب،ج۳،ص۱۶۳

والسیرۃ النبویۃ لابن ھشام، غزوۃ بد رالکبری، ذکر رؤیا عاتکۃ بنت عبدالمطلب، 

نھی النبی اصحابہ عن قتل...الخ، ص۲۵۹ ملخصاً
Flag Counter