Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
142 - 342
کرامت

کنواں قبر بن گیا
    ایک عورت جس کا نام ارویٰ بنت اویس تھا اس نے ان کے اوپر حاکم مدینہ مروان بن الحکم کی کچہری میں یہ دعویٰ دائرکردیاکہ انہوں نے میری ایک زمین لے لی ہے۔ مروان نے جب ان سے جواب طلب کیاتو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے جب رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص کسی کی بالشت برابر بھی زمین لے لے گا تو قیامت کے دن اس کو ساتوں زمینوں کا طوق پہنایا جائے گاتو اس حدیث کو سن لینے کے بعد بھلایہ کیونکر ممکن ہے کہ میں کسی کی زمین لے لوں گا ۔ آپ کا جواب سن کر مروان نے کہا: اے عورت!اب میں تجھ سے کوئی گواہ طلب نہیں کروں گا، جا تو اس زمین کو لے لے ۔ حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ فیصلہ سن کر یہ دعا مانگی: یااللہ! عزوجل اگر یہ عورت جھوٹی ہے تو اندھی ہوجائے اور اسی زمین پر مرے۔ چنانچہ اس کے بعد یہ عورت اندھی ہوگئی ۔ محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا بیان ہے کہ میں نے اس عورت کو دیکھا ہے کہ وہ اندھی ہوگئی تھی اور دیواریں پکڑ کر ادھر ادھرچلتی پھرتی تھی یہاں تک کہ وہ ایک دن اسی زمین کے ایک کنوئیں میں گر کر مرگئی اور کسی نے اس کو نکالابھی نہیں اس لئے وہی کنواں اس کی قبر بن گیا اور ایک اللہ والے کی دعا کی مقبولیت کا جلوہ نظر آگیا ۔ (1)(مشکوٰۃ ،ج۲،ص۵۴۶وحجۃ اللہ ج۲،ص۸۶۶بحوالہ بخاری ومسلم)
1۔۔۔۔۔۔مشکاۃ المصابیح،کتاب احوال القیامۃ وبدء الخلق، الحدیث:۵۹۵۳،ج۲، ص۴۰۱

وحجۃ اللہ علی العالمین، الخاتمۃ فی اثبات کرامات الاولياء...الخ، المطلب الثالث 

فی ذکر جملۃجمیلۃ ...الخ،ص۶۱۶
Flag Counter