ایک مرتبہ نہر فرات میں ایسی خوفناک طغیانی آگئی کہ سیلاب میں تمام کھیتیاں غرقاب ہوگئیں لوگوں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دربار گوہر بار میں فریاد کی ۔ آپ فوراً ہی اٹھ کھڑے ہوئے اوررسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا جبہ مبارکہ وعمامہ مقدسہ وچادر مبارکہ زیب تن فرما کر گھوڑے پر سوار ہوئے اورآدمیوں کی ایک جماعت جس میں حضرت امام حسن وامام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما بھی تھے ، آپ کے ساتھ چل پڑے ۔ آپ نے پل پر پہنچ کر اپنے عصاء سے نہر فرات کی طرف اشارہ کیا تو نہر کا پانی ایک گز کم ہوگیا ۔ پھر دوسری مرتبہ اشارہ فرمایا تو مزید ایک گز کم ہوگیا جب تیسری بار اشارہ کیا تو تین گز پانی اتر گیا اور سیلاب ختم ہوگیا۔ لوگوں نے شور مچایا کہ امیر المؤمنین!رضی اللہ تعالیٰ عنہ بس کیجئے یہی کافی ہے ۔(2) (شواہدالنبوۃ،ص۱۶۲)