Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
112 - 342
عورت!یہ مردتیراشوہرنہیں ہے بلکہ تیرابیٹا ہے ، تم دونوں اللہ تعالیٰ کا شکر اداکروکہ اس نے تم دونوں کو حرام کاری سے بچالیا، اب تو اپنے اس بیٹے کو لے کراپنے گھر چلی جا۔ (1)(شواہدالنبوۃ،ص۱۶۱)
تبصرہ
    مذکورہ بالا دونوں مستند کرامتوں کو بغور پڑھئے اور ایمان رکھيے کہ خداوند قدوس کے اولیاء کرام عام انسانوں کی طرح نہیں ہوا کرتے بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے ان محبوب بندوں کو ایسی ایسی روحانی طاقتوں کا بادشاہ بلکہ شہنشاہ بنادیتاہے کہ ان بزرگوں کے تصرفات اور ان کی روحانی طاقتوں اورقدرتوں کی منزل بلند تک کسی بڑے سے بڑے فلسفی کی عقل وفہم کی بھی رسائی نہیں ہوسکتی ۔

    خدا کی قسم!میں حیران ہوں کہ کتنے بڑے جاہل یا متجاہل ہیں وہ لوگ جو اولیاء کرام کو بالکل اپنے ہی جیسا ملّا سمجھ کران کے ساتھ برابری کادعوی کرتے ہیں اور اولیاء کرام کے تصرفات کا چلا چلا کر انکار کرتے پھرتے ہیں ۔تعجب ہے کہ ایسے ایسے واقعات جو نور ہدایت کے چاند تارے ہیں ان منکروں کی نگاہ سے آج تک اوجھل ہی ہیں مگر اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ، جو دونوں ہاتھوں سے اپنی آنکھوں کو بند کرلے اس کو چاند ستارے تو کیا سورج کی روشنی بھی نظر نہیں آسکتی ۔درحقیقت اولیاء کرام کے منکرین کا یہی حال ہے ۔
ذرا دیر میں قرآن کریم ختم کرلیتے
    یہ کرامت روایات صحیحہ سے ثابت کہ آپ گھوڑے پر سوا رہوتے وقت ایک
1۔۔۔۔۔۔شواہد النبوۃ، رکن سادس دربیان شواھد ودلایلی...الخ،ص۲۱۳
Flag Counter