ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خُلاصہ ہے: میں جن دنوں پنجاب میں درزی کا کام کرتاتھا، میرا کردارمعاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ انتہائی خراب تھا ، نَماز کی بالکل توفیق نہ تھی ،لڑائی بھڑائی تقریباً روزہ مرّہ کا معمول تھا، جھوٹ،غیبت، وعدہ خلافی ، غصّہ ،گالَم گلوچ، چوری ،بدنگاہی، فلمیں ڈرامے دیکھنا ، گانے باجے سننا،راہ چلتی لڑکیوں کو چھیڑ خانی کرنا، ماں باپ کو ستانا،الغرض وہ کون سی بُرائی تھی جو مجھ میں نہ تھی ۔ میری بداعمالیوں سے تنگ آ کر میرے گھر والوں نے مجھے بابُ المدینہ کراچی بھیج دیا۔
میں نے بابُ المدینہ(کراچی) کے ایک کارخانے میں ملازمت اختِیار کر لی،وہاں لڑکیاں بھی کام کرتی تھیں ،اس لئے میری عادتیں مزید بگڑ گئیں۔ میں اس قَدَر بُرا بندہ تھا کہ کبھی کبھی تو خود اپنے آپ سے گِھن آتی تھی ۔ ایک روز مجھے پتا چلا کہ میرے ماموں زاد بھائی دعوتِ اسلامی کے ادارہ ، جامعۃ المدینہ