(یعنی اے عظمت وبزرگی والے)کہتے ہوئے سناتو فرمایا:''اب دعامانگو کہ تمہاری دعا قبول ہو گی۔ ''
(الترغیب والترہیب ،کتاب الذکرو الدعاء ،باب الترغیب فی کلمات ...الخ ،رقم ۲ ، ص ۲ ،ص ۳۱۷)
(۱۳۸۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا گزر حضرتِ سیدنا ابوعیاش رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قریب سے ہوا تووہ نماز پڑھتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے'
' اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ بِاَنَّ لَکَ الْحَمْدُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ یَاحَنَّانُ یَامَنَّانُ یَابَدِیْعَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یَا ذَالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ
ترجمہ: اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتاہوں اس بات کے وسیلے سے کہ تمام تعریفیں تیرے لئے ہیں تیرے سواکوئی معبود نہیں اے بہت زیادہ رحم فرمانے والے اے بہت زیادہ احسان فرمانے والے اے زمین و آسمان کو پیدا فرمانے والے اے عزت وجلال والے ۔''
تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،'' بیشک اس نے اللہ عزوجل کے اس اسم اعظم کے وسیلے سے دعا مانگی ہے جس کے وسیلے سے دعا مانگی جائے تو اللہ عزوجل ضرور قبول فرماتا ہے اور سوال کیا جائے تواللہ عزوجل ضرورعطا فرماتاہے۔'' ایک روایت میں
(رواہ احمدو ابوداود والنسائی وابن حبان والحاکم )