| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۱۱۲۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھے کہ انہوں نے اپنے سر پر ایک آواز سنی تو اوپر سر اٹھایا اور عرض کیا،'' یہ آسمان کا دروازہ ہے جوآج ہی کھولا گیا ہے اس سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا۔'' پھر اس سے ایک فرشتہ نیچے اترا تو جبرائیل علیہ السلام نے عر ض کیا ،''یہ ایک فرشتہ ہے جو زمین کی طرف اترا ہے آج سے پہلے کبھی نہیں اترا۔'' پھر اس فرشتے نے سلام کیا اور عرض کیا،''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دو نوروں کی خوشخبری لیجئے جو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو عطا کئے گئے اور آپ سے پہلے کسی بھی نبی کوعطانہ ہوئے ،وہ (سورۂ )فاتحہ اور (سورۂ) بقرہ کی آخری آیتیں ہیں،آپ ان دونوں میں سے جو بھی حرف پڑھیں گے اس کے عوض آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم پر عطائیں کی جائیں گی۔''
(مسلم ،کتاب صلاۃ المسافرین، باب فضل الفاتحۃ الخ، رقم ۸۰۶، ص ۴۰۳)
(۱۱۲۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا نعمان بن بشیررضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' اللہ عزوجل نے زمین وآسمان کو پیدا کر نے سے دوہزار سال پہلے ایک کتاب لکھی پھر اس میں سے (سورۂ) بقرہ کی آخر ی دوآیتیں نازل فرمائیں۔جس گھر میں تین راتیں ان دو آیتوں کو پڑھا جائے گا شیطان اس گھر کے قریب نہ آئے گا۔''
(ترمذی ،کتاب فضائل القرآن ،باب ماجاء فی آخر سورۃ البقرۃ ، رقم۲۸۹۱ ، ج ۴ ، ص ۴۰۴)
ایک روایت کے الفاظ کچھ یوں ہیں کہ'' جس گھر میں ان دوآیتوں کو پڑھا جائے گا شیطان تین دن تک اس کے قریب نہ آئیگا ۔''
(المستدرک ،کتاب فضائل القرآن ،باب آیتا ن من آخر سورۃ البقرۃ ..الخ ،رقم ۲۱۰۹،ج ۲ ،ص ۲۶۸)
(۱۱۲۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' بیشک اللہ عزوجل نے مجھے اپنے عرش کے نیچے رکھے ہوئے خزانے میں سے ایسی دو آیتیں عطا فرمائیں جنکے ذریعے (سورۂ) بقرہ کا اختتام فرمایا، لہذا!انہیں سیکھواور اپنی عورتوں اور بچوں کوسکھاؤکیونکہ یہ نماز، قرآن اور دعا ہیں ۔''
(المستدرک ، کتاب فضائل القرآن ،باب آیتان من آخر سورۃ البقرۃ الخ ،رقم ۲۱۱۰ ،ج۲ ، ص ۲۶۸)
(۱۱۲۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ