Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
396 - 736
 دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے مجھے پکا رامگر میں نے ان کا جواب نہ دیا۔ جب میں آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوااور عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نماز پڑ ھ رہا تھا۔'' تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،'' کیااللہ عزوجل نے یہ ارشاد نہیں فرمایا:
''اِسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ
ترجمہ کنزالایمان: اللہ اور اس کے رسول کے بلانے پر حاضر ہو جب رسول تمہیں اس چیز کیلئے بلائیں۔''(پ۹ ، الانفال :۲۴)

    پھر فرمایا،'' میں تمہارے مسجد سے نکلنے سے پہلے تمہیں ایک سورت سکھاؤں گا جو کہ قرآن کی سب سے عظیم سورت ہے۔'' پھرآپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہا تھ پکڑلیا ، جب ہم نے مسجد سے نکلنے کا ارادہ کیا تو میں نے عرض کیا، ''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا تھا میں تمہیں قرآن کی سب سے عظیم سورت سکھاؤں گا؟''آپ نے فرمایا،'' وہ
الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
ہے یہ وہی سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو مجھے عطاکیا گیا۔''
(بخاری، کتاب التفسیر ،باب ماجاء فی فاتحۃ الکتاب، رقم ۴۴۷۴، ج۳، ص ۱۶۳)
(۱۱۱۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم حضرتِ سیدنا اُبی بن کَعْب رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لا ئے اور فرمایا، ''کیا تم پسندکرتے ہو کہ میں تمہیں ایک ایسی سورت سکھاؤں جو نہ تورات میں نازل ہوئی نہ انجیل میں اور نہ ہی زبور میں اور نہ ہی قرآن میں اس جیسی کوئی اورسورت نازل ہوئی؟'' انہوں نے عرض کیا ،''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ضرورسکھائیے۔''تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،''تم نماز میں کیا پڑھتے ہو ؟''انہوں نے سورۂ فاتحہ پڑھ کر سنائی تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ،''اس ذات کی قسم !جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اس جیسی سورت نہ تورات میں نازل ہوئی، نہ انجیل میں، نہ زبور میں اور نہ ہی قرآن میں اس جیسی کوئی اور سورت نازل ہوئی، بیشک یہ سبع مثانی اور قرآن ہے جومجھے عطا کیا گیا ہے۔''
(ترمذی، کتاب فضائل القرآن، باب ماجاء فی فضل فا تحۃ الکتاب، رقم ۲۸۸۴، ج۴، ص ۴۰۰)
(۱۱۱۱)۔۔۔۔۔۔ حضر ت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سفر کے دوران ایک جگہ اپنی سواری سے اترے تو قریب ہی ایک اورشخص بھی سواری سے اتر گیا۔رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اورفرمایا،'' کیا میں تمہیں قرآن مجید کے افضل حصے کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ''اس نے عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ضرور بتایئے۔'' تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے
،'' اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
کی تلاوت فرمائی ۔''
(المستدرک ،کتاب فضائل القرآن ، باب شفا ء المجنون بقرا ء ۃ فاتحۃ الکتاب الخ، رقم ۲۱۰۰ ،ج ۲ ، ص ۲۶۴)
Flag Counter