Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
338 - 736
سمندری جہاد کا ثواب
(۹۴۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناعبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جس نے حج نہیں کیا اس کا حج کرنا دس غزوات میں شریک ہونے سے بہتر ہے اور جس نے حج اداکرلیا اس کا غزوہ میں شریک ہونا دس حج اداکرنے سے بہتر ہے اور سمندر میں جہاد کرنا خشکی میں دس مرتبہ جہاد کرنے سے بہتر ہے اور جس نے سمندر کوپار کرلیا گویا اس نے تمام وادیاں پار کرلیں اورسمندر میں چکر اکر گر نے والااپنے خون سے لتھڑے ہوئے شخص کی طرح ہے ۔''
    (شعب الایمان ، باب فی الجہاد ، رقم ۲۲۱ ۴، ج ۴ ، ص ۱۱)
(۹۴۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''سمندر میں جہاد کرناخشکی میں دس مرتبہ جہادکرنے کی طرح ہے ،سمندر میں بیمارہونے والا راہِ خدا میں اپنے خون سے لتھڑے ہوئے شخص کی طرح ہے۔''
 (ابن ماجہ ،کتاب الجہاد ،باب فضل غزوالبحر،رقم ۲۷۷۷ ،ج۳ ،ص ۳۴۸)
(۹۴۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدتناام حرام رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''سمندر میں چکراکرقے کرنے والے کے لئے ایک شہید کا ثواب ہے اور سمندر میں ڈوب کرمرنے والے کے لئے ایک شہید کا ثواب ہے۔''
(ابو داؤد ،کتاب الجہاد، با ب فضل الغزو فی البحر ،رقم ۲۴۹۳، ج۳، ص ۱۱)
(۹۴۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناانس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ''خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم حضرتِ سیدتنا ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہما کے پاس تشریف لاتے تووہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کھاناپیش کرتیں۔ آپ حضرت عُبَادہ بن صَامِتْ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجہ تھیں۔ ایک مرتبہ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا پھر آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا سر اقدس دیکھنے لگیں تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سو گئے پھر جب بیدارہوئے تو مسکرانے لگے۔ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا نے عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟''فرمایا،''میر ی امت کے کچھ لوگ راہ خدا میں جہاد کرتے ہوئے میرے سامنے پیش کئے گئے جو تخت نشین با دشاہوں کی طر ح اس سمند ر کے بیچ میں سوار ہوں گے۔''توحضرت ام حرام رضی اللہ عنہا نے عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ عزوجل سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے ان لوگوں میں شامل فرمادے ۔''
Flag Counter