(1) مِنْ اَہۡلِ الْکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَآئِمَۃٌ یَّتْلُوۡنَ اٰیٰتِ اللہِ اٰنَآءَ الَّیۡلِ وَہُمْ یَسْجُدُوۡنَ ﴿113﴾یُؤْمِنُوۡنَ بِاللہِ وَ الْیَوْمِ الۡاٰخِرِ وَ یَاۡمُرُوۡنَ بِالْمَعْرُوۡفِ وَ یَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنۡکَرِ وَ یُسَارِعُوۡنَ فِی الْخَیۡرٰتِ ؕ وَ اُولٰٓئِکَ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿114﴾وَمَا یَفْعَلُوۡا مِنْ خَیۡرٍ فَلَنۡ یُّکْفَرُوْہُ ؕ وَاللہُ عَلِیۡمٌۢ بِالْمُتَّقِیۡنَ ﴿115﴾
ترجمہ کنزالایمان :کتابیوں میں کچھ وہ ہیں کہ حق پر قائم ہیں اللہ کی آیتیں پڑھتے ہیں رات کی گھڑیوں میں اور سجدہ کرتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر ایما ن لاتے ہیں اور بھلائی کاحکم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہیں اورنیک کاموں پر دوڑتے ہیں اور یہ لوگ لائق ہیں اور وہ جوبھلائی کریں ان کا حق نہ مارا جائے گا اور اللہ کو معلوم ہیں ڈروالے۔(پ 4 ،آل عمران :113،114،115)
(2) وَ مِنَ الَّیۡلِ فَتَہَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ ٭ۖ عَسٰۤی اَنۡ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوۡدًا ﴿79﴾
ترجمہ کنزالایمان : اور رات کے کچھ حصہ میں تہجد کرو یہ خاص تمہارے لئے زیادہ ہے قریب ہے کہ تمہیں تمہارا رب ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمد کریں ۔(پ15، بنی اسرائیل: 79)
(3) وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیۡنَ یَمْشُوۡنَ عَلَی الْاَرْضِ ہَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَہُمُ الْجٰہِلُوۡنَ قَالُوۡا سَلٰمًا ﴿۶۳﴾ وَالَّذِیۡنَ یَبِیۡتُوۡنَ لِرَبِّہِمْ سُجَّدًا وَّ قِیٰمًا ﴿۶۴﴾ وَالَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَہَنَّمَ ٭ۖ اِنَّ عَذَابَہَا کَانَ غَرَامًا ﴿٭ۖ۶۵﴾ اِنَّہَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا ﴿۶۶﴾ وَالَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا لَمْ یُسْرِفُوۡا وَلَمْ یَقْتُرُوۡا وَکَانَ بَیۡنَ ذٰلِکَ قَوَامًا ﴿۶۷﴾
ترجمہ کنزالایمان :اور رحمن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام اور وہ جو رات کا ٹتے ہیں اپنے رب کے لئے سجدے اور قیام میں اور وہ جو عر ض کرتے ہیں اے ہمارے رب ہم سے پھیردے جہنم کاعذاب بے شک اس کا عذاب گلے کا غل (پھندا) ہے بے شک وہ بہت ہی بری ٹھہرنے کی جگہ ہے اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں(پ19، الفرقان: 63تا67)