Brailvi Books

جنتی زیور
67 - 676
بَہو کے فرائض:۔ہر بہو کو لازم ہے کہ اپنی ساس کو اپنی ماں کی جگہ سمجھے اورہمیشہ ساس کی تعظیم اور اس کی فرماں برداری و خدمت گزاری کو اپنا فرض سمجھے۔ ساس اگر کسی معاملہ میں ڈانٹ ڈپٹ کرے تو خاموشی سے سن لے۔ اور ہر گز ہرگز' خبردار خبردارکبھی ساس کو پلٹ کر الٹا سیدھا جواب نہ دے بلکہ صبر کرے اسی طرح اپنے خسر کو بھی اپنے باپ کی جگہ جان کر اس کی تعظیم وخدمت کو اپنے لئے لازم سمجھے۔ اور ساس خسر کی زندگی میں ان سے الگ رہنے کی خواہش نہ ظاہر کرے اور اپنی دیورانیوں اور جیٹھانیوں اور نندوں سے بھی حسب مراتب اچھا برتاؤ رکھے اور یہ ٹھان لے کہ مجھے ہر حال میں انہی لوگوں کے ساتھ زندگی بسر کرنی ہے۔

بیٹے کے فرائض:۔ہر بیٹے کو لازم ہے کہ جب اس کی دلہن گھر آجائے تو حسب دستور اپنی دلہن سے خوب خوب پیار و محبت کرے لیکن ماں باپ کے ادب و احترام اور ان کی خدمت و اطاعت میں ہر گز ہر گز بال برابر بھی فرق نہ آنے دے۔ اب بھی ہر چیز کا لین دین ماں ہی کے ہاتھ سے کرتا رہے اور اپنی دلہن کو بھی یہی تاکید کرتا رہے کہ بغیر میری ماں اور میرے باپ کی رائے کے ہرگز ہر گز نہ کوئی کام کرے نہ بغیر ان دونوں سے اجازت لئے گھر کی کوئی چیز استعمال کرے۔ اس طرز عمل سے ساس کے دل کو سکون و اطمینان رہے گا کہ اب بھی گھر کی مالکہ میں ہی ہوں اور بیٹا بہو دونوں میرے فرماں بردار ہیں۔ پھر ہرگزہرگز کبھی بھی وہ اپنے بیٹے اور بہو سے نہیں لڑے گی جو لڑکے شادی کے بعد اپنی ماں سے لاپروائی برتنے لگتے ہیں اور اپنی دلہن کو گھر کی مالکہ بنا لیا کرتے ہیں۔ عموماً اسی گھر میں ساس بہو کی لڑائیاں ہوا کرتی ہیں لیکن جن گھروں میں ساس بہو اور بیٹے اپنی مذکورہ بالا فرائض کا خیال رکھتے ہیں۔ ان گھروں میں ساس بہو کی لڑائیوں کی نوبت ہی نہیں آتی۔