متلی آنے لگتی ہے پھر وہ بھی ایک دم سینہ تان کر ساس کے آگے طعنوں اور کوسنوں کی قے کرنے لگتی ہے اور پھر معاملہ بڑھتے بڑھتے دونوں طرف سے ترکی بہ ترکی سوال و جواب کا تبادلہ ہونے لگتا ہے یہاں تک کہ گالیوں کی بمباری شروع ہو جاتی ہے۔ پھر بڑھتے بڑھتے اس جنگ کے شعلے ساس اور بہو کے خاندانوں کوبھی اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ اور دونوں خاندانوں میں بھی جنگ عظیم شروع ہوجاتی ہے۔
میرے خیال میں اس لڑائی کے خاتمہ کی بہترین صورت یہی ہے کہ اس جنگ کے تینوں فریق یعنی ساس' بہو اور بیٹا تینوں اپنے اپنے حقوق و فرائض ادا کرنے لگیں تو ان شاء اﷲتعالیٰ ہمیشہ کے لئے اس جنگ کا خاتمہ یقینی ہے ان تینوں کے حقوق و فرائض کیا ہیں ؟ان کو بغور پڑھو۔
ساس کے فرائض:۔ہر ساس کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی بہو کو اپنی بیٹی کی طرح سمجھے اور ہر معاملہ میں اس کے ساتھ شفقت و محبت کا برتا ؤ کرے اگر بہو سے اس کی کمسنی یا نا تجربہ کاری کی وجہ سے کوئی غلطی ہو جائے تو طعنے مارنے اور کوسنے دینے کے بجائے اخلاق و محبت کے ساتھ اس کو کام کا صحیح طریقہ اور ڈھنگ سکھائے اور ہمیشہ اس کا خیال رکھے کہ یہ کم عمر اور نا تجربہ کار لڑکی اپنے ماں باپ سے جداہو کر ہمارے گھر میں آئی ہے اس کے لئے یہ گھر نیا اور اس کا ماحول نیا ہے اس کا یہاں ہمارے سوا کون ہے؟اگر ہم نے اس کا دل دکھایا تو اس کو تسلی دینے والا اوراس کے آنسو پونچھنے والا یہاں دوسرا کون ہے ؟ بس ہر ساس یہ سمجھ لے اور ٹھان لے کہ مجھے اپنی بہو سے ہر حال میں شفقت و محبت کرنی ہے بہو مجھے خواہ کچھ نہیں سمجھے مگر میں تو اس کو اپنی بیٹی ہی سمجھوں گی تو پھر سمجھ لو کہ ساس بہو کا جھگڑا آدھے سے زیادہ ختم ہو گیا۔