Brailvi Books

جنتی زیور
584 - 676
    حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے حجاج! قسم بخدا تو میرے ساتھ کوئی بد عنوانی نہیں کر سکتا میں نے رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے چند کلمات سنے ہیں جن کی برکت سے میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں رہتاہوں اوران کلمات کی بدولت کسی ظالم کی سختی اور کسی شیطان کے شر سے ڈرتا ہی نہیں حجاج اس کلام کی ہیبت سے دم بخود رہ گیا اور سر جھکا لیا تھوڑی دیر کے بعد سر اٹھا کر بولا کہ اے ابو حمزہ (یہ حضرت انس کی کنیت ہے) یہ کلمات مجھے بتا دیجئے حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں ہرگز تجھے نہ بتاؤں گا اس لئے کہ تو اس کا اہل نہیں ہے راوی کا بیان ہے کہ جب حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کاآخری وقت آگیا تو ان کے خادم حضرت ابان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ان کے سرہانے آکر رونے لگے حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کیا چاہتا ہے؟ حضرت ابان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کی وہ کلمات ہمیں تعلیم فرمایئے جن کے بتانے کی حجاج نے درخواست کی تھی اور آپ نے انکار فرما دیا تھا حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا لو سیکھ لو ان کو صبح و شام پڑھنا وہ کلمات یہ ہیں۔
دعائے انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ:۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۵بسْمِ اللہِ عَلٰی نَفْسِیْ وَدِیْنِیْ بِسْمِ اللہِ عَلٰی اَھْلِیْ وَمَالِیْ وَوَلَدِیْ۔ بِسْمِ اللہِ عَلٰی مَا اَعْطَانِیَ اللہُ اَللہُ رَبِّیْ لَا اُشْرِکُ بِہٖ شَیْاً ؕ اَﷲُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ وَاَعَزُّ وَاَجَلُّ وَاَعْظَمُ مِمَّا اَخَافُ وَاَحْذَرُ عَزَّ جَارُکَ وَجَلَّ ثَنَاءُ کَ وَلَا اِلٰہَ غَیْرُکَ اَللّٰھُمَّ اِنِیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ وَمِنْ شَرِّ کُلِّ شَیْطَانٍ مَّرِیْدٍO وَمِنْ شَرِّ کُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍO فَاِنْ تَوَلَّوْافَقُلْ حَسْبِیَ اللہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَؕ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِO اِنَّ وَلِیِّ ےَ اللہُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْکِتٰبَ وَھُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیْنَ O
اس دعا کو تین مرتبہ صبح کو اور تین مرتبہ شام کو پڑھنا بزرگوں کا معمول ہے۔
(جامع الاحادیث للسیوطی،مسند انس بن مالک،رقم۱۲۰۶۳،ج۱۸،ص۴۸۷،

اخبار الاخیار(فارسی)،ص۲۹۲)
Flag Counter