بچنے کے لیے ظاہر میں لوگ اس کی آؤ بھگت کر لیتے ہیں مگر دل میں اس کو انتہائی برا سمجھ کر اس سے بے انتہا نفرت کرتے ہیں اور اس کے دشمن ہوتے ہیں چنانچہ جب متکبر آدمی پر کوئی مصیبت آن پڑتی ہے تو کسی کے دل میں ہمدردی اور مروت کا جذبہ نہیں پیدا ہوتا بلکہ لوگوں کو ایک طرح کی خوشی ہوتی ہے بہر حال گھمنڈ وغرور اور شیخی مارنا جیسا کہ اکثر مالدار مردوں اور عورتوں کا طریقہ ہے یہ بہت بڑا گناہ اور بہت ہی خراب عادت ہے۔
اگر آدمی اتنی بات سوچ لے کہ میں ایک ناپاک قطرہ سے پیدا ہوا ہوں اور میرے پاس جو بھی مال یا کمال ہے وہ سب اﷲ تعالیٰ کا دیا ہوا ہے اور وہ جب چاہے ایک سیکنڈ میں سب لے لے پھر میں گھمنڈ کس بات پر کروں اور اپنی کون سی خوبی پر شیخی ماروں تو ان شاء اﷲ یہ بُری خصلت اور خراب عادت بہت جلد چھوٹ جائے گی۔