| جنتی زیور |
تبصرہ:۔اس سے پتا چلتا ہے کہ حضرات صحابہ و صحابیات رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کو حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے کتنی والہانہ اور عاشقانہ محبت تھی کہ جس چیز کو بھی حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے تعلق ہوجاتا تھا وہ چیز ان کی نظروں میں باعث تعظیم اور لائق احترام ہو جایا کرتی تھی کیوں نہ ہوکہ یہی ایمان کی نشانی ہے کہ مسلمان نہ صرف حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی ذات سے محبت کرے بلکہ حضور کی ہر ہر چیز سے بھی محبت کرے اور حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی ہر چیز کو اپنے لئے قابل تعظیم جانے اور اس کا ایمانی محبت کے ساتھ اعزاز واکرام کرے۔
(۴۸)حضرت خنساء رضی اﷲ تعالیٰ عنہا
یہ زمانہ جاہلیت میں بہت بڑی مرثیہ گو شاعرہ تھیں یہاں تک کہ ''عکاظ'' کے میلے میں ان کے خیمے پر جو سائن بورڈ لگتا تھا اس پر ''ارثی العرب '' (عرب کی سب سے بڑی مرثیہ گو شاعرہ) لکھا ہوتا تھا یہ مسلمان ہوئیں اور حضرت امیر المومنین عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے دربار خلافت میں بھی حاضر ہوئیں ان کی شاعری کا دیوان آج بھی موجود ہے اور علمائے ادب کا اتفاق ہے کہ مرثیہ کے فن میں آج تک خنساء کا مثل پیدا نہیں ہوا ان کے مفصل حالات علامہ ابو الفرج اصفہانی نے اپنی کتاب ''کتاب الاغانی'' میں تحریر کئے ہیں یہ صحابیت کے شرف سے سرفراز ہیں اور بے مثال شعر گوئی کے ساتھ یہ بہت ہی بہادر بھی تھیں محرم ۱۴ھ میں جنگ قادسیہ کے خوں ریز معرکہ میں یہ اپنے چار جوان بیٹوں کے ساتھ تشریف لے گئیں جب میدان جنگ میں لڑائی کی صفیں لگ گئیں اور بہادروں نے ہتھیار سنبھال لئے تو انہوں نے اپنے بیٹوں کے سامنے یہ تقریر کی کہ۔
''میرے پیارے بیٹو! تم اپنے ملک کو دوبھر نہ تھے نہ تم پرکوئی قحط پڑا تھا باوجود اس کے تم اپنی بوڑھی ماں کو یہاں لائے اور فارس کے آگے ڈال دیا۔ خدا کی قسم! جس طرح تم